انتظامی بنیادوں پر اختیارات کی حقیقی منتقلی ناگزیر ہے،نئے صوبوں کے قیام پر قومی مباحثہ


اسلام آباد: (بیورورپورٹ)انتظامی تنظیم نو، نئے صوبوں کے قیام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پرقومی مباحثہ ،حکومتی و اپوزیشن رہنماوں، پالیسی ماہرین اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔

مباحثے میں ملک کے انتظامی مسائل کے حل، وسائل کی منصفانہ تقسیم، مضبوط بلدیاتی نظام ،عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا پائیدار ترقی کےلئے سماجی شعبے کو مضبوط بنانا ضروری ہے، دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے ترقی کی ہو اور بچے سکولوں سے باہر ہوں، پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، شرح خواندگی میں اضافے کےلئے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی،بااختیار تیسری سطح کی حکومت قائم کی جائے تو نئی قیادت سامنے آئے گی ،اختیارات کو موثر انداز میں نچلی سطح تک منتقل کیا جا سکے گا، مسائل سے آنکھیں بند کرنا مستقبل کےلئے خطرہ ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفی کمال نے کہا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی وقت کی اہم ضرورت ، مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے ہی عوام کے مسائل دہلیز پر حل کیے جا سکتے ہیں، نظام کی ازسرنو تشکیل وقت کا تقاضا ہے ،فیصلے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنا ہوں گے،بیرسٹر عقیل ملک نے کہا انتظامی بنیادوں پر اختیارات کی حقیقی منتقلی ناگزیر ،نئے انتظامی یونٹس کے قیام کےلئے ڈھانچہ موجود ہے، سیاسی سطح پر مختلف کام کرانے کے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن گلیوں ،سڑکوں کی تعمیر سمیت متعدد بنیادی مسائل حل نہیں ہو پاتے، ملک کو درپیش مسائل کے حل کےلئے مستقبل میں آئینی ترمیم کی جانب جانا پڑ سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ملک کے انتظامی مسائل پر توجہ دینے ،بنیادی مسائل کے حل کےلئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،انتظامی اصلاحات ضرور ہونی چاہئیں۔

سینئر سیاستدان علی درانی نے کہا مضبوط بلدیاتی ادارے ہی عوام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بناتے ہیں تاہم صوبوں کو اربوں روپے منتقل ہونے کے باوجود مقامی حکومتوں کے قیام ،بااختیار بنانے کیلئے موثر پیش رفت نظر نہیں آتی،نئے انتظامی یونٹس اور اصلاحات کے معاملے پر سیاسی اتفاق رائے کےساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا پاکستان میں اگر ڈیولوشن کرنی ہے تو آپ کو نئے صوبے بنانے ہوں گے، اختیارات کی منتقلی کا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ۔