پٹرولیم لیوی کاخاتمہ،وزیراعظم نے وقت مانگ لیا،لانگ مارچ نومبر میں ہوگا، نعیم الرحمن


اسلام آباد: (بیورورپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات ،پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کردیا۔

وزیراعظم ہاوس میں دونوں رہنماوں کے درمیان ہونےوالی ملاقات میں حکومتی ٹیم میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا سینیٹر اورنگزیب ، احسن اقبال ، علی پرویز ملک ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی و مشیر سینیٹر رانا ثنا، احد چیمہ ، وزیرمملکت بلال اظہر کیانی ،نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر کے پی وسطی عنایت خان ،امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا امیر جماعت اسلامی کے وفد میں شامل تھے۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا وزیراعظم نے ملاقات میں مزید 7سے 10دن کی مہلت مانگی تاکہ دونوں فریقوں کی کمیٹیاں ریلیف کے دائرہ کار ، طریقہ کار پر مزید بات چیت کر سکیں، جماعت اسلامی نے اس شرط پر مہلت دینے پر اتفاق کیا حکومت عوام کو ریلیف دینے کے معاملے کو مزید موخر نہیں کرے گی، وزیراعظم نے اتفاق کیا پہلے اعلان کردہ ریلیف پیکیج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولت پہنچائی جا سکے،لیوی کے خاتمے پر حکومت ،جماعت اسلامی کے موقف میں اختلاف برقرار ہے، حکومت مرحلہ وار ختم کرنے کی بات کر رہی ،جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہاچند روپے کی معمولی کمی یا عوام کو عارضی ریلیف دے کر مسئلے کو ختم نہیں سمجھتے، حکومت کے پاس بہت سے آپشنز ہو سکتے ہیں لیکن مطالبہ واضح لیوی ختم ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حقیقی کمی عوام تک پہنچائی جائے،مہلت دینے کامقصد ہے بات چیت کا راستہ جاری رہے اور حکومتی موقف کی حقیقت بھی سامنے آ جائے،حکومت نے مناسب ریلیف فراہم کیا، پیکیج کا دائرہ بڑھایا اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے کی جانب عملی پیش رفت کی توعوام کے حق میں بہتر ہوگا بصورت دیگر جماعت اسلامی سڑکوں پر نکلنے ، بھرپور احتجاج کرنے کےلئے تیار ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا جماعت اسلامی اسلام آباد مارچ سے دستبردار نہیں ہوئی، مارچ کی تیاریاں جاری رہیں گی ،نومبر کے وسط میں مارچ ضرور ہوگا،مذاکرات ،احتجاج ساتھ ساتھ جاری رہیں گے، جماعت اسلامی اب اپنا اسلام آباد مارچ ملتوی نہیں کرے گی،حکومت کو پٹرولیم لیوی کے خاتمے کےلئے متبادل تجاویز پیش کیں، حکومتی نمائندوں کو واضح کیا نہیں ہو سکتا پوری قوم کو معاشی طور پر گروی رکھ دیا جائے،عالمی حالات ،خطے کی جنگی صورتحال کے اثرات اپنی جگہ لیکن حکومت کو عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے،حکومتی ریلیف پیکیج غریب طبقات کی مشکلات کا حقیقی حل نہیں ۔