تہران: (مشرق نیوز)صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے خطے کی موجودہ صورتحال سے نکلنے کےلئے سپریم لیڈر کی ہدایات پر عمل کیا جائے گا اور ایران کے مستقبل کا تعین بھی انہی ہدایات کے مطابق ہوگا۔
مسعود پزشکیان نے کہا حکومت سپریم لیڈر کی ہدایات پر عملدرآمد کےلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی،دشمن دباو ،دھمکیوں کے ذریعے ایرانی عوام کے حوصلے پست نہیں کرسکتے، دباو ڈال کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا واشنگٹن کی سفارتکاری سے بے اعتنائی ایک بار پھر واضح ،ٹرمپ نے اعتراف کیااسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر کبھی یقین نہیں تھا،مذاکرات کو وقت کا ضیاع سمجھنا امریکی سفارتی وعدوں کی حقیقت بے نقاب کرتا ہے،امریکہ کی وعدوں سے مکرنے کی طویل تاریخ وہ اپنے مفادات کےلئے بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتا ہے،وعدہ خلافیوں کوکسی صورت درست قرارنہیں دیا جا سکتا ،بین الاقوامی قانون کا اطلاق من پسند انداز میں نہیں ہونا چاہیے،یورپی ممالک امریکہ کو جواب دہی سے بچا رہے ہیں۔
وعدوں کی خلاف ورزی کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا،وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا 4ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کےلئے مذاکرات آگے بڑھانے کا اہم موقع ،مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق اہم پیشرفت ،سفارتی پیشرفت کو دیرپا تعاون میں تبدیل کرنے کےلئے مشترکہ اصولوں پر اتفاق، اعتماد سازی اور ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام ضروری ہے،خطے میں پائیدار امن و سلامتی کےلئے صرف مذاکرات کافی نہیں، باہمی احترام ،ٹھوس وعدوں کے ذریعے تعاون کو آگے بڑھانا ہوگا۔
امریکی سفارتی وعدوں کی حقیقت بے نقاب ،کوئی ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتا،ایران


















