پشاور: (بیورورپورٹ)پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج ،ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی ،عوامی مینڈیٹ کے منافی قرار دیتے ہوئے ہر آئینی، قانونی، عدالتی ، سیاسی فورم پر جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا اور مذاکرات کےلئے 6 رکنی کمیٹی قائم کر دی۔
اجلاس میں اہم سیاسی و آئینی امور پر تفصیلی غور و خوض ،گورنر راج،ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردی کےخلاف کارروائیوں کی آڑ میں مبینہ سیاسی انتقامی اقدامات فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا،اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پی ٹی آئی کارکنوںکے گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور ایم پی او کے تحت نظر بندیوں کی مذمت ،پارٹی پرچم اتارنے اور ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں ہٹانے کے اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا گیا،پارلیمانی پارٹی نے مطالبہ کیا بانی پی ٹی آئی کی صحت پرمستند معلومات فراہم ،اہلخانہ ، وکلا کو فوری رسائی دی جائے،12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ ،انتظامی اختیارات کی منتقلی پر شدید تحفظات ہیں، ضم شدہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے عمل کو رول بیک کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی، قبائلی مشران اور سیاسی جماعتوں کو مدعو کرکے مشترکہ جرگہ بلائیں گے۔
پارلیمانی پارٹی نے بیرسٹر گوہر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا پی ٹی آئی میں کوئی گروپ بندی نہیں، تمام سیاسی و تنظیمی فیصلے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات ،باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی پارلیمانی پارٹی نے مذاکرات کےلئے 6 رکنی کمیٹی قائم کر دی،کمیٹی صوبے میں گورنر راج ، ایمرجنسی کے خاتمے کےلئے مذاکرات کرے گی، کمیٹی میں بیرسٹر گوہر، علی امین گنڈاپور اور نورالحق قادری شامل ہوں گے، کے پی اسمبلی کے 3 اراکین کو بھی کمیٹی میں شامل کیا جائے گا،علی امین گنڈاپور نے کہا حکومت اعلامیے کے بغیر کس حیثیت سے مجھے قبول کرے گی،بیر سٹر گوہر نے 48 گھنٹے میں کمیٹی کے باضابطہ اعلان کی یقین دہانی کرادی۔
گورنر راج ،ایمرجنسی کے خاتمے کےلئے پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی قائم


















