اسلام آباد (مشرق نیوز) تازہ تازہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت گنوانے اور سیاسی میدان میں دوبارہ جگہ بنانے کیلئے جدوجہد کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کو اپنے ہی سوشل میڈیا اکاونٹس کی جانب سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر چلنے والے یہ پیغامات پارٹی کی سیاسی تنہائی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔
پارٹی کے مصدقہ ایکس اکاونٹ سے 26 اکتوبر کو پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان سے منسوب ایک بیان دوبارہ جاری ہوا جس میں انہوں نے اعلیٰ عسکری قیادت کے بارے میں نہایت سخت اور منفی الفاظ استعمال کئے تھے تاہم یہ بیان سابق وزیراعظم کا نیا پیغام نہیں تھا۔ یہ بیان دراصل 2025 میں جاری کیا گیا تھا جسے پارٹی کے سوشل میڈیا اکاونٹس نے تقریباً ایک سال بعد اس وقت دوبارہ شائع کیا جب پی ٹی آئی کو سیاسی محاذ پر مسلسل کئی دھچکوں کا سامنا تھا۔ موقف جاننے کیلئے جب رابطہ کیا گیا تو پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیا۔
ذاتی تنقید پر مشتمل یہ پوسٹس پارٹی کے اعلیٰ رہنماوں بشمول چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو اعتماد میں لئے بغیر شیئر کی جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے سوال اٹھایا کہ اس بیان کو دوبارہ جاری کرنے سے اس کے مقاصد پر سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ بھی سوال ہے کہ آیا پارٹی کی سوشل میڈیا سٹرٹیجی اسے سیاسی حمایت حاصل کرنے میں مدد دے رہی ہے یا سیاسی روابط اور بات چیت کی گنجائش مزید محدود کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کی طرف سے بانی کا پرانا جارحانہ بیان پھر جاری، سینئر رہنما پریشان


















