عید الفطر کے ماحول پر منفی اثرات

عید ایک اہم اسلامی تہوار ہے جو پوری دنیا کے بیشتر مسلمان غیر اسلامی طریقے سے مناتے ہیں۔ اس میں کوی شک نہیں کہ رمضان بابرکت مہینہ اور عید مسلمانوں کے اتحاد کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ سماج کے افراد زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کیخاطر رمضان کے دوران عبادات میں مصروف عمل رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ زکوا وغیرہ بھی ادا کرتے ہیں۔ جبکہ یہی افراد اپنے کاروبار کے ذریعے رمضان اور عید کے دنوں میں زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرتے ہیں۔ان دنوں میں سرمایہ دار تمام ضرورت زندگی کی اشیا کو مہنگا بیچتا ہیں۔ ناجاز منافع حاصل کرنے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کے عمل کو بالکل جرم نہیں سمجھا جاتا ہیں۔ عبادات ان کا دین ہے اور ناجاز ذریعے سے زیادہ سے زیادہ منافع کا حصول انکا کاروبار ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں گناہ اور جرم دو الگ الگ تصور ہیں۔ عام طور پر جرم کو گناہ نہیں سمجھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہد سرمایہ دار ماحول کو تباہ کرنے والے عوامل کو گناہ نہیں مانتے ہیں۔ اس مخصوص سرمایہ دار طبقہ کی انوکھی سانس سے ماحول اور انسانی صحت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔خواتین سمت سوسائٹی کے افراد رمضان کے دوران خاص طور پر آخری عشرہ میں اپنے علاقائی بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ عید کی تیاری کی بدولت مارکیٹ میں اشیا کی طلب بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس مواقع سے سرمایہ دار بھرپور فادہ اٹھتا ہے اور دن رات فیکٹریوں سے پیداوار حاصل کی جاتی ہیں۔ مختلف طریقوں سے زیادہ پیداور کے لئے زیادہ راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔اس بے قابو پیداوار کے حصول کی وجہ سے کاربن، لکڑی اور غیر معیاری تیل کی طلب بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس طلب کو پورا کرنے کے لیے دن رات پرانے ٹاروں کو جلایا جاتا ہیں اور اس سے غیر معیاری سے بھی غیر معیاری تیل حاصل کیا جاتا ہے۔ اس طرح طلب اور رسد کے چکر میں ماحول بری طرح متاثر اور ماحولیاتی آلودگی میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہیں۔ غیر معیاری ایندھن اور کاربن وغیرہ کا استعمال اور لکٹری کے حصول کے لیے جنگلات کا کٹا نے فصای آلودگی میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے۔ مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں خریداروں کی بھیڑ بڑھنے کی وجہ سے کھانے پینے کے ہوٹلوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس اضافہ سے پلاسٹک، اجناس ، چاول اور دیگر اشیائے خوردنی کی طلب بھی بڑھ جاتی ہیں جو ان اشیا کی پیداوار کے عمل کو تیز کر دیتی ہیں۔ اس علاوہ گوشت، پولٹری، سبزیاں، پھل، دودھ کی مصنوعات، اناج، پیکڈ فوڈ وغیرہ کی طلب میں بھی اضافہ ہو جاتا ہیں۔ عید کی چھٹیوں میں گوشت اور مرغی کو بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ گائے کے گوشت، مٹن، چکن وغیرہ کی مانگ عام مانگ کے تقریبا پچاس فیصد تک بڑھ جاتی ہے، جو کہ بذات خود بہت زیادہ ہے۔ کاغذ اور چاول کی فیکٹریاں سے گندے زہریلے پانی کی نکاس ہوتی ہیں اور اس گندے آلودہ پانی کو نالوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ نباتات، جانور، زرخیز زمین اور پرندے بے حد متاثر ہو رہے ہیں۔ اس زہریلی پانی سے متعدد جانوروں کی اموات بھی ہو چکی ہیں۔ اس بے قابو پیداوار کے چکر نے ماحول کے تحفظ کو چکر میں ڈال دیا ہے۔جیسے جیسے عید کے دن قریب آتے ہے مارکیٹ میں خریداروں کی بھیڑ بھی بڑھتی جاتی ہیں اور عوام الناس کے اس رش کے سبب سڑکوں پے ٹریفک کی آمد و رفت بھی معمول سے زیادہ ہو جاتی ہیں۔ گاڑیوں میں ایندھن کے جلنے اور دھواں کے اخراج سے فضای آلودگی بڑھ جاتی ہے۔ خریداروں کی بھیڑ اور رش سے بازار اور سڑکیں شاپنگ بیگ، گتہ کے ڈبوں، کاغذ اور کوڑے کے ڈھیروں سے ماحول بری طرح متاثر ہوا۔ شہریوں کو مخصوص سرمایہ دار طبقے سے ہر سال موسم سرما میں سموگ اور موسم گرما میں درجہ حرارت بطور عیدی ملتی ہیں۔آج کل حکومت اور متعلقہ ادارے ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے بہت سنجیدہ نظر آرہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ نگران وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر اس سالایل ڈبلیو ایم سی نے سڑکوں اور بازاروں کی صاف کو یقینی بنانے کے لیے دن رات محنت سے کام کیا۔ اس کے ساتھ پنجاب پولیس اور ٹریفک وارڈنز نے ڈیوٹی کا حق ادا کر دیا۔ ٹریفک پولیس کی موثر حکمت عملی اور جامع پلان سے اس دفعہ عید پے ٹریفک کی آمد و رفت بالکل متاثر نہیں ہوی۔ پولیس کی جانب سے متعدد مقامات اور تمام بازاروں پر خصوصی انتظامات کر کے شہریوں کو ہر طرح کی شرانگریزی اور سے محفوظ رکھا گیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عید الفطر کو ماحول دوست عید بنایا جائے۔ اس سلسلے میں عیدالفطر کی تقریبات کی منصوبہ بندی تحفظ ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے کرنی چاہیے۔