ضلعی انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی، لاہور کا ریونیو نظام شدید مشکلات سے دوچار

لاہور (میاں ذیشان) صوبائی دارالحکومت لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی ناقص منصوبہ بندی نے لاہور کا ریونیو نظام کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا، لاہور کی 10 تحصیلوں میں 364 مواضعات کیلئے صرف 138 پٹواری تعینات، پانچ سے زائد مواضعات ایک پٹواری کے سپرد، سائلین خوار، فرد و انتقال کے معاملات متاثر ہونے لگے۔ پٹواریوں کی مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے سے شہریوں کو اراضی ریکارڈ کے حصول میں شدید پریشانی کا سامنا، متعدد مواضعات کا بوجھ ایک ہی پٹواری پر ڈالنے کا انکشاف،پٹواریوں سے ریونیو ذمہ داریوں کے ساتھ اضافی سرکاری ڈیوٹیاں بھی لینے کے باعث فیلڈ اور دفتری امور متاثر، افسران کی جانب سے خالی آسامیوں پر بروقت تعیناتی نہ کرنے پر سوالات اٹھنے لگے۔ڈپٹی کمشنر لاہور اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے پٹواریوں کی مطلوبہ تعداد پوری کرنے اور خالی جگہوں پر بروقت تعیناتی یقینی بنانے کے بجائے محدود نفری سے متعدد مواضعات کا کام چلانے کی پالیسی نے ریونیو نظام پر غیر معمولی دباﺅ ڈال دیا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہری پر پڑ رہا ہے، ترجمان ڈپٹی کمشنر لاہور حارث علی سلہری نے لاہور کے سینکڑوں مواضعات میں پٹواریوں کی کمی، متعدد مواضعات میں ایک ہی پٹواری کی تعیناتی اور عدم دستیابی کو کام کی تقسیم کی ایک جامع حکمت علی قرار دیدیا، تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں ریونیو امور کی انجام دہی کیلئے پٹواری کم پڑ گئے، لاہور کی دس تحصیلوں کے 364 مواضعات میں صرف 138 پٹواری تعینات ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ دفتر قانونگو، ریکارڈ رومز، تحصیل حاضری اور دیگر ریونیو معاملات کیلئے مجموعی طور پر 190 پٹواری دستیاب ہیں، ذرائع کے مطابق صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ بعض پٹواریوں کو بیک وقت پانچ سے زائد مواضعات کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جس کے باعث ایک ہی اہلکار کیلئے متعدد علاقوں میں اراضی ریکارڈ، انتقالات، فردات، گرداوری، فصلوں کے ریکارڈ، ملکیتی تنازعات اور دیگر ریونیو امور کی بروقت اور مکمل جانفشانی کے ساتھ انجام دہی عملاً دشوار ہو گئی ہے، ایک پٹواری کو متعدد مواضعات کا چارج دینے سے نہ صرف سرکاری کام کا معیار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے بلکہ شہریوں کو معمولی نوعیت کے ریونیو معاملات کیلئے بھی بار بار پٹوار خانوں اور متعلقہ دفاتر کے چکر لگانا پڑ رہے ہیں، بالخصوص فرد کے حصول، انتقال کے اندراج و تصدیق، ریکارڈ کی درستگی اور دیگر اراضی معاملات میں تاخیر کے باعث سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ افسران کی جانب سے پٹواریوں کی مطلوبہ تعداد پوری کرنے اور خالی جگہوں پر بروقت تعیناتی یقینی بنانے کے بجائے محدود نفری سے متعدد مواضعات کا کام چلانے کی پالیسی نے ریونیو نظام پر غیر معمولی دباﺅ ڈال دیا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہری پر پڑ رہا ہے، ایک پٹواری بیک وقت پانچ یا اس سے زائد مواضعات کا ذمہ دار ہو تو اس کیلئے ہر موضع میں باقاعدہ حاضری، ریکارڈ کی جانچ، موقع پر معائنہ، انتقالات کی کارروائی، فصلوں کی گرداوری اور سائلین کی درخواستوں پر بروقت کارروائی کرنا نہ صرف مشکل بلکہ عملی طور پر انتہائی وقت طلب امر بن جاتا ہے، اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریونیو ذمہ داریوں کے ساتھ پٹواریوں کو مختلف اضافی سرکاری ڈیوٹیاں بھی تفویض کئے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس سے پہلے سے محدود افرادی قوت مزید غیر ریونیو سرگرمیوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اور نتیجتاً پٹوار نظام کی بنیادی ذمہ داریاں متاثر ہوتی ہیں، بعض پٹواریوں کی جانب سے دفاتر میں باقاعدگی سے بیٹھنے کے بجائے فیلڈ ورک کو ترجیح دینے کی صورتحال نے بھی سائلین کیلئے مشکلات بڑھا دی ہیں اور شہریوں کو متعلقہ پٹواری کی تلاش میں ایک موضع سے دوسرے موضع یا دفتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جبکہ پٹواریوں کی کمی کے باعث شہریوں کو بروقت فرد اور انتقال سمیت دیگر خدمات فراہم نہ ہونے سے ریونیو نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، تشویشناک امر یہ ہے کہ لاہور جیسے صوبائی دارالحکومت میں 364 مواضعات کے مقابلے میں صرف 138 پٹواریوں کی تعیناتی کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس خلا کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنے کیلئے مطلوبہ افرادی قوت فراہم کرنے کے بجائے موجودہ پٹواریوں پر اضافی بوجھ ڈالنے کا سلسلہ جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، ماہرین ریونیو امور کے مطابق موثر ریونیو انتظام کیلئے ہر موضع کی سطح پر مناسب نفری، واضح ذمہ داری اور باقاعدہ دفتری حاضری بنیادی ضرورت ہے، بصورت دیگر ایک اہلکار کو متعدد مواضعات کا بوجھ دینے سے نہ صرف سرکاری ریکارڈ کی بروقت تکمیل متاثر ہوتی ہے بلکہ زمینوں کے معاملات میں تاخیر، سائلین کی پریشانی اور شکایات میں اضافہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ لاہور پٹواریوں کی منظور شدہ اور موجودہ نفری کا مکمل جائزہ لے، خالی آسامیوں پر فوری تعیناتی کرے، ایک پٹواری کو غیر معمولی تعداد میں مواضعات دینے کی پالیسی ختم کرے، اضافی غیر ریونیو ڈیوٹیوں کے بوجھ کو کم کرے اور ہر پٹواری کی باقاعدہ دفتری و فیلڈ حاضری یقینی بنائے تاکہ عوام کو فرد، انتقال اور دیگر ریونیو خدمات کیلئے غیر ضروری خواری سے نجات مل سکے۔

لاہور (سپیشل رپورٹر) ترجمان ڈپٹی کمشنر لاہور حارث علی نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں 364 مواضعات کے مقابلے میں صرف 138 پٹواری دستیاب ہونا ایک حقیقت ہے اور اسی وجہ سے بعض پٹواریوں کو ایک سے زائد مواضعات کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، تاہم ضلعی انتظامیہ اس انتظامی کمی کو عوامی مشکلات یا ریونیو نظام کی خرابی سے تعبیر کرنے سے اتفاق نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹواریوں کی محدود نفری کے باوجود مواضعات اور کام کی تقسیم ایک جامع حکمت عملی کے تحت کی گئی ہے اور پٹواریوں کی پیشہ ورانہ قابلیت، کارکردگی اور علاقائی جغرافیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کا بوجھ متوازن کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جسے انتظامی اصطلاح میں ریشنلائزیشن کہا جاتا ہے۔ ترجمان کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام 10 تحصیلوں میں پٹواریوں کے فیلڈ اور دفتری امور کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ اراضی ریکارڈ، فرد اور انتقال سمیت دیگر ریونیو خدمات میں بلاوجہ تاخیر نہ ہو۔ تاہم اعدادوشمار خود اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 364 مواضعات کیلئے 138 پٹواریوں کی دستیابی ایک نمایاں انتظامی خلا ہے، جس کے باعث متعدد پٹواریوں پر ایک سے زائد مواضعات کا بوجھ موجود ہے، ایسے میں ہر موضع میں باقاعدہ حاضری، موقع پر ریونیو امور کی انجام دہی اور سائلین کو بروقت خدمات کی فراہمی کے حوالے سے عملی مشکلات کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہی ہے اور عوامی سہولت کو یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔