لاہور (اپنے نمائندے سے) شہر میں زیر زمین پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی، حکومت کا استعمال شدہ پانی کو آبیاری کے استعمال کا منصوبہ کاغذی جمع تفریق تک محدود، پی ایچ اے لاہور پانی بچاو منصوبے عملی نتائج دینے میں ناکام ،شہر بھر میں 18زیر زمین واٹر ٹیکنس 32ملین گیلن پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کروڑوں روپے کی لاگت سے شروع کئے گئے جدید وضو واٹر ری یوز سسٹم زیادہ تر غیر فعال پڑے ہیں۔صوبائی دارالحکومت میں پانی کے غیر ضروری استعمال اور ضیاع کے باعث زیر زمین پانی کی سطع خطرناک حدتک کمی دیکھنے میں آئی۔ اس حوالے سے واٹر کمیشن کا قیام ہوا جس کی ذمہ داری زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی کی روک تھام کی خاطر اقدامات کئے گئے اس میں 2018میں زیر زمین پانی کے استعمال اور سروس سٹیشنوں کو ری سائیکل پلانٹ کی تنصیب کو یقینی بنانے کے علاوہ گھروں کے باہر پانی سے واش کرنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا جس پر بھاری جرمانے کئے جا رہے ہیں استعمال شدہ پانی کو آبیاری کی خاطر شہر کے 90 فیصد پارکس تاحال روایتی فلڈ اریگیشن پر چل رہے ہیں جوڈیشل واٹر کمیشن کے احکامات پر پی ایچ اے نے مساجد سے ملحقہ گرین بیلٹس میں وضو کے پانی کو محفوظ کر کے ہارٹیکلچر کیلئے استعمال کرنے کا منصوبہ شروع کیا تھا ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت 18 زیر زمین واٹر ٹینکس تعمیر کئے گئے ہیں، مزید 5پر کام جا ری ہے۔ مسجد اقصیٰ پارک گجرپورہ، نگینہ پارک گجرپورہ، صلاح الدین پارک ٹمبر مارکیٹ، قلعہ لکشمن سنگھ گول گراونڈ اور تکونہ پارک کے ٹینکس تکنیکی خرابی کے باعث بند ہیں ٹنڈہ پھاٹک پارک سبزی منڈی اور گرین پارک تاجپورہ میں بھی وضو کے پانی کا موثر استعمال نہیں ہو رہا، جبکہ کوثر مسجد پارک شادباغ میں واٹر کنکشن ہی فراہم نہیں کیا گیا اور طیب مسجد پارک میں موٹر تک نصب نہیں۔جدید آبیاری کے دعوے، میدان میں پرانا نظامپی ایچ اے اور واسا نے مشترکہ طور پر زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کیلئے ایک ہزار گراونڈ واٹر ری چارج ویلز بنانے کا اعلان کیا تھا، ہر ویل کی یومیہ گنجائش 8 ہزار گیلن مقرر کی گئی تھی، تاہم اب تک صرف 40ویلز فنکشنل ہیں مزید مقامات پر ویلز کی تعمیر کا اعلان بھی ہوا مگر پیش رفت سست ہے۔اسی طرح لارنس روڈ پر 15 کروڑ روپے کی لاگت سے 15 لاکھ گیلن بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا ٹینک تعمیر کیا گیا، لیکن دوسری جانب فیلڈ صورتحال یہ ہے کہ لاہور کے تقریباً 90 فیصد پارکوں میں اب بھی پائپوں کے ذریعے فلڈ اریگیشن جاری ہے۔ صرف جلانی پارک اور شالامار پارک سمیت 2 سے 3 ماڈل پارکوں میں جزوی ڈرپ اریگیشن نصب کی گئی ہے مزید برآں مٹی کی نمی جانچنے والے سینسرز، موبائل ایپ سے آبپاشی کنٹرول اور پودوں کی صحت کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ جیسے جدید نظام تاحال بڑے پیمانے پر فعال نہیں ہو سکے۔فنڈز جاری نہ ہونے سے منصوبے متاثر ہوئے ہیں لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت واسا کے نئے واٹر ٹینکس اور ٹرنک سیورز سمیت پی ایچ اے کے کئی منصوبوں کیلئے مکمل فنڈز جاری نہ ہو سکے، جس سے پانی بچاو¿ کے منصوبے بھی متاثر ہو رہے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی بچاو¿ منصوبوں کا اصل امتحان تختی لگانا نہیں بلکہ مسلسل فعالیت، حقیقی پانی کی بچت اور عوامی وسائل کا مو¿ثر استعمال ہے پارکوں میں پانی روایتی طریقے سے ضائع ہو رہا ہے تو منصوبوں کی تکنیکی جانچ، نگرانی اور ذمہ داری کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے پی ایچ اے حکام کا کہنا تھا کہ شہر کے مختلف پارکس میں وضو کے پانی کو آبیاری کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
لاہور شہر میں زیر زمین پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی



















