لاہور (اپنے نمائندے سے) وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے رحمان بابا ٹرین حادثے کی جگہ کا دورہ کرتے ہوئے محکمہ ریلوے کے افسران کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ووڈن سلیپرز کے ناقص ہونے، انکی عدم دستیابی اور خریداری کے عمل میں مبینہ اجارہ داری کے معاملے پر سخت سوالات اٹھائے۔ وزیر ریلوے نے کنکریٹ کے سلیپرز کے معیار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے ہدایت کہ 2021ءمیں جو بھی ذمہ دار افسر تعینا ت تھا اس کی نشاندہی کریں اور اس کے خلاف انکوائری کریں ۔دورے کے دوران افسران سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ عوام محکمہ ریلوے کے افسران کو نام سے نہیں جانتے بلکہ کسی حادثے کی صورت میں سب سے پہلے وزیر کو گالیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران پڑھے لکھے اور مختلف ممالک سے تعلیم حاصل کرکے آئے ہیں، انہیں مسائل کا حل خود تلاش کرنا چاہیے، ہر معاملے میں متبادل موجود ہوتا ہے، اس لیے کسی ایک سپلائر کا محتاج بننے کی ضرورت نہیں۔وفاقی وزیر نے لکڑی کے ناقص سلیپرز اور عدم دستیابی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ایک سپلائر سلیپرز فراہم نہیں کر رہا تو دوسرے ذرائع تلاش کیوں نہیں کیے جا رہے؟ ،ایک ہی شخص کی اجارہ داری قائم کرکے پورے محکمے کو اس کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ خریداری کی تکنیکی شرائط تبدیل کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سپلائرز اس عمل میں حصہ لے سکیں اور کسی ایک کمپنی کی بلیک میلنگ کا خدشہ ختم ہو۔حنیف عباسی نے کہا کہ افسران کو مسائل کے حل کیلئے خود فیصلے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے عرصے سے سلیپرز کی فراہمی کا مسئلہ حل نہ ہونا افسوس ناک ہے اور اس صورت حال میں عوام کے سامنے جواب دیتے ہوئے مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔وفاقی وزیر نے سلیپرز کے معیار اور ان کی عمر سے متعلق بھی سخت سوالات اٹھائے۔ وفاقی وزیر نے کنکریٹ کے 2021ءمیں خریدے گئے سلیپرز اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی ہدایت کرتے ہوئے پوچھا کہ اس خریداری اور معیار کی ذمہ داری کس افسر پر عائد ہوتی ہے اور متعلقہ افسر کی ریٹائرمنٹ ہو چکی ہے یا وہ اب بھی عہدے پر موجود ہے اس کی نشاندہی کی جائے اور اس کی تحقیقات کی جائیں۔ جو اب موجود ہے اسے کہہ دیں اب الٹنا لٹکنا پڑے گا،بتائیں کیا آٹھ سال میں کنکریٹ کا سلیپر ٹوٹتا ہے، انگریز کا ڈالا ہوا تو ابھی تک نہیں ٹوٹا۔جو ذمہ دار ہے وہ سیدھا پھانسی پر جائے میں کیوں جاﺅں ۔وفاقی وزیر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ سلیپرز کی خریداری کے نظام کو بہتر بنایا جائے، متبادل سپلائرز کی حوصلہ افزائی کی جائے اور تکنیکی شرائط اس انداز میں مرتب کی جائیں کہ مسابقت بڑھے، معیار بہتر ہو اور محکمہ ریلوے کسی ایک فرد یا کمپنی کا محتاج نہ رہے۔
سب سے پہلے مجھے گالی پڑتی ہے، وزیر ریلوے افسروں پر برہم



















