لاہور (اپنے نمائندے سے) پاکستان ریلوے نے غیر فعال انجنوں کی بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مرمت کا منصوبہ تیار کرلیا ،4ماہ میں 36 انجنوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کا امکان ہے۔ انجنوں کی بڑی تعداد غیر فعال ہونے کے باعث ریلوے کے آپریشنل نظام کو درپیش مشکلات کے پیش نظر اسپیئر پارٹس کی فراہمی اور مرمت کے عمل کو تیز کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ذرائع وزارتِ ریلوے کے مطابق پاکستان ریلوے کے پاس مختلف ماڈلز کے مجموعی طور پر 439 انجن موجود ہیں، جن میں سے 267 فعال جبکہ 172 غیر فعال ہیں۔ انجنوں کی بحالی کیلئے متعلقہ مینوفیکچررز سے رابطے کیے گئے ہیں تاکہ مرمت کیلئے درکار پرزوں کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ذرائع نے بتایا کہ 69 انجنوں کی مرمت کے سلسلے میں متعلقہ مینوفیکچرر سے رابطہ کیا گیا ہے، جبکہ اسپیئر پارٹس کی فراہمی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ منصوبے کے تحت مختلف ماڈلز کے انجن مرحلہ وار بحال کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق زیڈ سی یو ماڈل کے 20 انجن آئندہ دو ماہ میں فعال کرنے کا امکان ہے، جبکہ اے جی ای ماڈل کے مزید 16 انجن فروری 2027 تک بحال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ان اقدامات سے ریلوے کے دستیاب انجنوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔دوسری جانب جی ایم یو ماڈل کے 35 انجنوں کو جدید بنانے اور ان کی مرمت کیلئے پی سی ون تیار کرکے وزارتِ منصوبہ بندی کو ارسال کردیا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر تاحال وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔پاکستان ریلوے کی جانب سے غیر فعال انجنوں کی بحالی اور پرانے انجنوں کی جدید کاری کے اقدامات کا مقصد دستیاب وسائل سے بہتر استفادہ کرنا اور ٹرین آپریشنز کی استعداد میں اضافہ کرنا ہے تاہم منصوبے کی کامیابی کا انحصار مرمت کیلئے درکار پرزوں کی بروقت فراہمی، مالی وسائل اور مقررہ مدت میں کام مکمل ہونے پر ہوگا۔
ریلوے، 172 ناکارہ انجنوں کی بحالی کا منصوبہ ، 4 ماہ میں 36 کے چلنے کا امکان



















