لاہور (نعیم جاوید)ملک میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی مقامی پیداوار طلب کے مقابلے میں کم ہونے کے باعث درآمدات پر انحصار برقرار ہے، جبکہ مختلف شہروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دستیاب تخمینوں کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی مقامی پیداوار تقریباً 2 ہزار سے 2 ہزار 500 میٹرک ٹن یومیہ ہے، جبکہ معمول کے حالات میں اس کی روزانہ کھپت 4 ہزار سے 4 ہزار 500 میٹرک ٹن کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ اس طرح مقامی پیداوار اور طلب کے درمیان فرق پورا کرنے کیلئے اضافی رسد درکار ہوتی ہے ایل پی جی کی مقامی پیداوار گیس فیلڈز اور آئل ریفائنریز سے حاصل ہوتی ہے، جبکہ طلب پوری کرنے کیلئے درآمدی گیس سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ سردیوں میں گھریلو صارفین کی جانب سے گیس سلنڈروں کے استعمال میں اضافے کے باعث ایل پی جی کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس سے رسد اور قیمتوں پر دباو پڑنے کا امکان ہوتا ہے لاہور سمیت ملک بھر میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافے نے گھریلو صارفین، ہوٹلوں، تندوروں اور چھوٹے کاروباروں کے اخراجات بڑھا دیے ہیں، جبکہ اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں اور کھلی مارکیٹ میں فروخت ہونے والی گیس کی قیمتوں میں نمایاں فرق سامنے آنے پر حکومتی نگرانی اور قیمتوں پر عمل درآمد کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں عالمی منڈی میں نرخوں کا بڑھنا، درآمدی لاگت، روپے اور ڈالر کی شرح تبادلہ، مقامی پیداوار اور طلب و رسد میں عدم توازن شامل ہیں، جبکہ ایران سے سپلائی متاثر ہونے کی اطلاعات نے بھی مارکیٹ میں قلت کے خدشات بڑھا دیے ہیںاوگرا کی جانب سے اکتوبر 2026 کیلئے ایل پی جی کی زیادہ سے زیادہ صارف قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کی گئی تھی، جبکہ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 3 ہزار 296 روپے 23 پیسے تھی۔ دوسری جانب مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی قیمت تقریباً 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ اگر گیس 600 روپے فی کلو فروخت ہو تو سرکاری نرخ کے مقابلے میں 320 روپے 66 پیسے فی کلو اضافی وصول کیے جا رہے ہیں، جس سے گھریلو صارفین پر نمایاں مالی بوجھ پڑتاہے ۔ ذرائع کے مطابق ایران سے ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہونے، درآمدی گاڑیوں کی آمدورفت میں مشکلات اور مقامی مارکیٹ میں طلب بڑھنے سے قیمتوں پر دباو پڑا ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ گھریلو استعمال، ہوٹلوں، تندوروں اور دیگر کاروباری شعبوں میں ایل پی جی کی کھپت بڑھنے کا امکان ہے۔ اگر مقامی پیداوار اور درآمدات کے ذریعے طلب پوری نہ کی گئی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین میں عالمی منڈی کے نرخ، درآمدی اخراجات، ٹیکس، ڈالر کی قدر، ٹرانسپورٹ اور تقسیم کے اخراجات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم سرکاری نرخوں اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے درمیان بڑے فرق کی اصل وجوہات جاننے کیلئے مقامی پیداوار، درآمدی لاگت، ڈسٹری بیوٹرز کی خریداری قیمتوں اور مارکیٹ میں دستیابی کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے، ایران سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد متبادل انتظامات کیا کیے گئے ہیں صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اوگرا، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے ایل پی جی کی دکانوں اور ڈسٹری بیوشن مراکز کی نگرانی مو¿ثر بنائیں، سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔ مارکیٹ میں ایل پی جی کی دستیابی بہتر بنانے، درآمدی سپلائی میں رکاوٹیں دور کرنے اور قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت پیدا کرنے کیلئے بھی فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو مہنگی گیس کے اضافی بوجھ سے بچایا جا سکے۔
ایل پی جی کے سرکاری نرخوں اور مارکیٹ قیمتوں میں بڑا فرق، صارفین پریشان



















