اسلام آباد:(بیورورپورٹ)کے پی حکومت فارغ،لانگ مارچ کے پلان کہاں گئے؟ ،پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین قیادت پر پھٹ پڑے اور پلان اے بی سی کے کیے گئے دعووں پر سوالات اٹھادئیے۔
بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت ہونےوالے اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال، خیبرپختونخوا میں گورنر راج ، ایمرجنسی کے نفاذ، اراکین کی مبینہ گمشدگی سمیت دیگر معاملات پر گفتگو کی گئی،ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کی حکمت عملی پر اراکین پھٹ پڑے اور قیادت سے سوال کیا پلان اے، بی، سی اور ڈی کا شور مچایا گیا مگر عملی منصوبہ نظر نہیں آیا،لانگ مارچ کی حکمت عملی بنی مگر اعتماد میں نہیں لیا گیا، ناکام حکمت عملی کی وجہ سے ایک صوبے میں حکومت چلی گئی، پارٹی کا ردعمل کہاں ہے؟۔
اراکین نے محمود اچکزئی کو مذاکرات کا ٹاسک دینے اور سیاسی رابطوں میں ناکامی پر بھی سوالات کیے،خیبرپختونخوا میں گورنر راج ،ایمرجنسی پر خاموشی چھوڑ کر پارلیمانی پارٹی کو متحرک کرکے موثر ردعمل دینے کی تجویز دی ، اجلاس میںحکومت سے مذاکرات جاری رکھنے یا احتجاج کا دائرہ بڑھانے پر بھی مشاورت کی گئی۔
سینٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہا بہت سے لوگ چاہتے تھے عمران خان کی بہنیں خاموش رہیں اور نہ بولیں اب خیبر پختونخوا میں حکومت گرادی گئی تو کہاں ہیں پارٹی کے بولنے والے، کیوں نہیں بولتے،کیوں آواز نہیں اٹھاتے،کیوں جا کر پٹیشن دائر نہیں کرتے؟،سہیل آفریدی لاپتہ ہیں،کسی کو معلوم نہیں کہاں ہیں، سہیل آفریدی کی رہائی اور صوبائی اسمبلی کے اپنے سپیکرکےلئے کیوں نہیں بولتے، جائیں اور پٹیشن دائر کریں، سب خاموش ہیں۔
کے پی حکومت فارغ، مارچ کے پلان کہاں گئے؟ ،پی ٹی آئی اراکین پھٹ پڑے


















