39 ہزار سے زائد کمپنیاں غیر فعال، بینک اکاونٹس منجمد ہوں گے: ایس ای سی پی

کراچی (مشرق نیوز) ایس ای سی پی نے 4 سال سے سالانہ گوشوارے اور مالیاتی حسابات جمع نہ کرانے پر 39 ہزار 704 کمپنیوں کو غیر فعال قرار دیدیا ہے جس کے باعث ان کمپنیوں کی مالیاتی خدمات تک رسائی محدود کردی گئی ہے۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے مطابق غیر فعال قرار دی گئی کمپنیوں کے نئے بینک اکاونٹس نہیں کھل سکیں گے، جبکہ موجودہ بینک اکاونٹس بھی فائلنگ مکمل ہونے تک منجمد رہیں گے۔

غیر فعال کمپنیاں اس دوران مالیاتی خدمات حاصل نہیں کرسکیں گی۔ دوبارہ فعال ہونے کیلئے کمپنیوں کو اپنی واجب الادا فائلنگ مکمل کرنا ہوگی۔ ایس ای سی پی کے مطابق غیر فعال حیثیت کے دوران کمپنیوں کے ڈائریکٹرز میں تبدیلی بھی رجسٹر نہیں ہوسکے گی۔

غیر فعال قرار دی گئی کمپنیوں میں لاہور کی 13 ہزار 927 اور اسلام آباد کی 13 ہزار 859 کمپنیاں شامل ہیں جبکہ کراچی کی 4 ہزار 868، پشاور کی 2 ہزار 31 اور ملتان کی ایک ہزار 861 کمپنیاں غیر فعال قرار دی گئی ہیں۔ اسی طرح فیصل آباد کی ایک ہزار 384، گلگت کی ایک ہزار 102، کوئٹہ کی 436 اور سکھر کی 236 کمپنیوں کو بھی غیر فعال قرار دیا گیا ہے۔

ایس ای سی پی کے مطابق کمپنیوں کو غیر فعال قرار دینے کا مقصد کارپوریٹ رجسٹر کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ یہ اقدام غیر فعال کمپنیوں کے غلط استعمال کی روک تھام میں مدد دیگا۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ شفاف اور قابل اعتماد کارپوریٹ رجسٹر کاروباری اعتماد کی بنیاد ہے۔ غیر فعال کمپنیوں کو الگ کرنا مالیاتی نظام کے تحفظ کیلئے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیاں قانونی تقاضے پورے کرکے دوبارہ فعال حیثیت حاصل کرسکتی ہیں۔