ناقص درآمدی گندم کی فراہمی ، فلور ملز کو سپلائی بند، ذمہ داروں کے تعین کیلئے تحقیقات کا مطالبہ

لاہور (نعیم جاوید) پنجاب میں سرکاری گوداموں اور پاکستان ایگریکلچر سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے ذخائر سے فلور ملز کو پرانی اور ناقص معیار کی درآمدی گندم فراہم کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ خوراک پنجاب نے اس کی فراہمی روک دی ہے۔ فلور ملز مالکان کی جانب سے گندم کے معیار پر سنگین اعتراضات اور شکایات موصول ہونے کے بعد حکومت پنجاب نے سرکاری ذخائر سے پرانی درآمدی گندم کا اجراءمعطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فلور ملز کو فی الحال مقامی سطح پر خریدی گئی گندم استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ذرائع کے مطابق فلور ملز مالکان نے محکمہ خوراک اور متعلقہ حکام کو شکایات درج کرائی تھیں کہ سرکاری گوداموں سے فراہم کی جانے والی پرانی درآمدی گندم کے دانوں کا رنگ تبدیل ہو چکا ہے، دانے سکڑ گئے ہیں اور ان میں کیڑے بھی پائے جا رہے ہیں۔ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ اس گندم سے تیار ہونے والے آٹے کا رنگ انتہائی گہرا ہوتا ہے اور اس میں روٹی بنانے کیلئے ضروری لچک اور معیار بھی موجود نہیں۔ بعض فلور ملز مالکان کے مطابق گندم کے دانوں کا اندرونی حصہ پاو¿ڈر کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے باعث اس سے تیار ہونے والا آٹا انسانی استعمال کیلئے موزوں نہیں رہا۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ناقص گندم کی مسلسل فراہمی کے معاملے پر محکمہ خوراک کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ عملے نے بروقت اقدامات نہیں کیے۔ ایسوسی ایشن کے بعض رہنماوں، جن میں چوہدری شفیق انجم بھی شامل ہیں، نے محکمہ خوراک کے ڈائریکٹر جنرل اور متعلقہ افسران کی مبینہ غفلت اور پاسکو کے ساتھ ملی بھگت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا مو¿قف ہے کہ گندم کی خریداری، ذخیرہ کرنے اور فلور ملز کو فراہم کرنے کے عمل میں معیار اور شفافیت کو نظرانداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرکاری ذخائر میں موجود گندم کی بڑی مقدار خراب ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیںذرائع کا کہنا ہے کہ گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں، ناقص نگرانی اور لوڈنگ کے عمل میں پسند و ناپسند کے الزامات کی بھی تحقیقات ضروری ہیں۔ فلور ملز مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ ناقص گندم فراہم کرنے کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کا تعین کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ معیار کی شکایات سامنے آنے کے باوجود فلور ملز کو یہ گندم کیوں فراہم کی جاتی رہی۔ دوسری جانب حکومت پنجاب اور محکمہ خوراک کی جانب سے اکتوبر کے آخری ایام میں پرانی درآمدی گندم کی فراہمی روکنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد فلور ملز کو مقامی طور پر خریدی گئی گندم استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم سرکاری گوداموں اور پاسکو کے ذخائر میں موجود باقی ماندہ درآمدی گندم کی مجموعی مقدار، اس کے معیار، خراب ہونے سے ہونے والے ممکنہ مالی نقصان اور اس کے مستقبل میں استعمال کے حوالے سے صورتحال تاحال اہم سوالات کی متقاضی ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے رہنماو¿ں کا دعویٰ ہے کہ پاسکو کے بعض کھلے گوداموں میں موجود پرانی گندم اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ اسے انسانی خوراک کے طور پر استعمال کرنا ممکن نہیں، جبکہ بعض ذخائر کو جانوروں کے استعمال کیلئے بھی ناموزوں قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے سرکاری سطح پر گندم کے نمونوں کی جانچ اور معیار کی تصدیق ضروری ہے تاکہ اس بات کا تعین ہو سکے کہ کتنی گندم انسانی استعمال کے قابل ہے اور کتنی تلف کرنے کی ضرورت ہے معاشی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے اس معاملے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر سرکاری ذخائر میں موجود درآمدی گندم معیار کے مطابق نہیں تھی تو اسے خریدنے، درآمد کرنے اور محفوظ رکھنے کے ذمہ دار کون ہیں؟ ناقص گندم کی فراہمی سے فلور ملز اور صارفین کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا ازالہ کیسے کیا جائے گا؟ اور اربوں روپے مالیت کے سرکاری ذخائر کو خراب ہونے سے بچانے کیلئے بروقت اقدامات کیوں نہیں کئے گئے تاجر اور فلور ملز حلقوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، گوداموں میں موجود تمام گندم کے ذخائر کا معیار جانچا جائے، ناقص گندم کی فراہمی میں ملوث ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور عوام کو معیاری آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔