لاہور (نعیم جاوید) محکمہ زراعت پنجاب کے شعبہ پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز کی جانب سے جعلی، ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری زرعی ادویات تیار اور فروخت کرنے والی کمپنیوں، فیکٹریوں اور ڈیلرز کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ محکمہ زراعت کی سالانہ رپورٹ 2024-25ءکے مطابق صوبے بھر میں جعلی اور غیر معیاری زرعی ادویات کے خلاف کارروائیوں کے دوران 470 مقدمات درج کیے گئے، 363 چھاپے مارے گئے جبکہ 239 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران ایک لاکھ 45 ہزار 532 کلوگرام اور لیٹر سے زائد زرعی ادویات قبضے میں لی گئیں جن کی مالیت 17 کروڑ 42 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے رپورٹ کے مطابق محکمہ زراعت کی ٹیموں نے مختلف علاقوں سے زرعی ادویات کے 5 ہزار 217 نمونے حاصل کرکے لیبارٹری تجزیے کیلئے بھجوائے، جن میں سے 241 نمونے غیر معیاری یا ملاوٹ شدہ قرار پائے۔ اس دوران غیر قانونی طور پر زرعی ادویات تیار کرنے والی چھ فیکٹریوں کا بھی سراغ لگایا گیا، جن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ان فیکٹریوں کا تعلق ملتان کے مختلف علاقوں سے تھا جہاں سے بھاری مقدار میں جعلی زرعی ادویات، خالی بوتلیں، جعلی لیبل اور پیکنگ کا سامان برآمد کیا گیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک کارروائی کے دوران 68 ہزار 272 کلوگرام اور لیٹر زرعی ادویات قبضے میں لی گئیں جن کی مالیت 4 کروڑ 13 لاکھ روپے سے زائد تھی۔ دوسری جانب جولائی 2026 میں ملتان میں ایک غیر قانونی گودام اور پیکنگ یونٹ کے خلاف کارروائی کے دوران 6 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جعلی اور زائد المیعاد زرعی ادویات برآمد کی گئیں، جن میں 7 ہزار 131 لیٹر اور 2 ہزار 521 کلوگرام ادویات شامل تھیں۔ ذرائع کے مطابق جعلی اور غیر معیاری زرعی ادویات کی تیاری اور فروخت کے باعث کاشتکاروں کو مالی نقصان کے ساتھ فصلوں کی پیداوار اور معیار کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم متاثرہ کاشتکاروں کو معاوضے کی ادائیگی، کمپنیوں اور ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کرنے، جرمانوں کی مجموعی رقم اور عدالتی کارروائیوں کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار تاحال واضح نہیں ہو سکے۔
جعلی ، غیر معیاری زرعی ادویات ، ایک سال میں 470 مقدمات ، 363 چھاپے، 239 افراد گرفتار


















