لاہور(نعیم جاوید) موجودہ معاشی صورتحال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے پیش نظر صوبائی حکومت کو راشن اور فیول کی فراہمی کے حوالے سے مختلف سفارشات پیش کی جا رہی ہیں جن میں ایک اہم تجویز یہ بھی شامل ہے کہ صوبے بھر کے تجارتی مراکز کو رات 10 بجے تک بند کر دیا جائے تاہم اس تجویز پر تاجر برادری نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے سے کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور تاجروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیںتاہم ہال روڈ کے صدر بابر محمود نے دکانےں 5بجے بند کروانے کی تجوےز دی ہے اس حوالے سے لاہور کے مختلف تجارتی مراکز کے تاجر رہنماوں وقار احمد مےاں، فاران سعےد بٹ، مےاں سلےم ،راجہ حسن اختر،ناصر حمےد خان،کاشف انور،ممتاز بخاری،عمر قرےشی،مےاں زاہد جاوےد،عادل منےر اور وسےم راجہ نے روزنامہ ”مشرق“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی معاشی دباو اور مہنگائی کی بلند شرح سے گزر رہا ہے جبکہ عوام کی قوت خرید میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں کاروباری اوقات کار مزید محدود کرنے سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور تاجروں کے مالی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ حکومت توانائی کے تحفظ کیلئے اقدامات ضرور کرے تاہم کاروباری اوقات کار میں کمی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں زیادہ تر خریداری شام کے اوقات میں ہوتی ہے اور دفاتر سے فارغ ہونے کے بعد شہری مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں۔ پوش علاقوں مےں اگر مارکیٹس رات 10 بجے بند کر دی جائیں تو کاروبار کا ایک بڑا حصہ متاثر ہوگا اور تاجروں کی آمدن میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث پہلے ہی کاروباری حالات انتہائی مشکل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تجارتی مراکز کو جلد بند کرنے کا فیصلہ نافذ کیا گیا تو چھوٹے تاجروں کیلئے اپنے اخراجات پورے کرنا مزید دشوار ہو جائے گا۔ لاہور کے بیشتر بازاروں میں اصل کاروبار رات کے اوقات میں ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر ریستوران، کپڑوں کی دکانوں، جوتوں اور گھریلو اشیاءکی فروخت زیادہ تر شام اور رات کے اوقات میں ہوتی ہے، اسلئے دکانیں جلد بند کرنے سے کاروبار کا حجم کم ہو جائے گا۔ اگر مارکیٹیں جلد بند کی گئیں تو نہ صرف تاجروں کا نقصان ہوگا بلکہ ملازمین کی آمدن بھی متاثر ہوگی۔ ایک تاجر رہنما کے مطابق مارکیٹوں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کی روزی روٹی ان کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ ہے، لہٰذا اوقات کار میں کمی کا براہ راست اثر ان کی تنخواہوں اور روزگار پر پڑے گا۔تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت اگر توانائی کے بحران سے نمٹنا چاہتی ہے تو اسے دیگر متبادل اقدامات پر غور کرنا چاہیے، جن میں توانائی کے ضیاع کو روکنا، غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی اور بجلی کے مو¿ثراستعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔بعض تاجروں نے یہ تجویز بھی دی کہ اگر حکومت توانائی بچت کے لیے اقدامات کرنا چاہتی ہے تو مارکیٹوں میں ایل ای ڈی لائٹس کے استعمال کو فروغ دیا جائے اور کاروباری مراکز میں توانائی کی بچت کے جدید طریقوں کو متعارف کرایا جائے تاکہ بجلی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں مارکیٹوں کو جلد بند کرنا عوام کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے کیونکہ بیشتر افراد اپنے مصروف اوقات کار کی وجہ سے شام یا رات کو ہی خریداری کے لیے وقت نکال پاتے ہیں۔تاجر رہنماو¿ں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے تاجر برادری کو اعتماد میں لیا جائے اور مشترکہ مشاورت کے ذریعے ایسا حل نکالا جائے جس سے توانائی کی بچت بھی ممکن ہو اور کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت تاجروں کے ساتھ مل بیٹھ کر پالیسی مرتب کرے تو ایسا قابل عمل حل نکالا جا سکتا ہے جو تمام فریقوں کیلئے قابل قبول ہو۔
رات10 بجے مارکیٹس بند کرنے سے کاروبار متاثر ہونگے :تاجر رہنما


















