پی ایچ اے کی نجی کمپنی کو پارک بحالی کے 20 سال بعد بھی واجبات کی عدم ادائیگی

لاہور (قمر عباس نقوی) محکمہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر ایجنسی کے شعبہ فنانس سمیت انجینئرنگ افسران کا فرخ آباد پارک کی بحالی پر ایک کروڑ 54لاکھ مالیت کے کام کو 20سال گزرنے کے بعد نجی کمپنی کی ادائیگی التوا کا شکار، انصاف کے حصول کی خاطراے ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو ایک باضابطہ درخواست جمع کروا دی۔ پی ایچ اے لاہور کی جانب سے سال 2008میں شاہدرہ کے علاقہ فرخ آباد پارک کی بحالی کی خاطر مختلف نوعیت کے کام کئے گئے جس میں سول ورک ،چوکیدار ہٹ ،ماڈل واش روم ،ایریگیشن سسٹم ،الیکٹریکل ورک اور فوارہ شامل ہے۔ اس حوالے سے ایک کروڑ 54لاکھ کی ادائیگی پی ایچ اے کی جانب سے 2008سے تاخیر کا شکار ہیں۔ اس کے حصول کی خاطر کنٹریکٹر کی جانب سے بلز کے حصول کی خاطر پی ایچ اے کو فراہم کی گئی فائلز کو بھی غائب کرنے اور عدم ادائیگی کو 18سے 20سال گزرنے کے بعد افسران کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے الزامات اور انکوائری کے طریقہ کار پر سنگین تحفظات سامنے آئے ہیں اس سلسلے میں شہزاد عالم خان کی جانب سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو ایک باضابطہ درخواست جمع کروائی گئی ہے، جس میں انکوائری کے شفاف نہ ہونے پر نظرثانی کی اپیل کی گئی ہے درخواست کے مطابق، شہزاد عالم خان نے پہلے بھی پی ایچ اے کے چند افسران کے خلاف مبینہ کرپشن کی شکایت درج کروائی تھی جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئرنگ پی ایچ اے ملک ریاض احمد، ڈائریکٹر فنانس پی ایچ اے ندیم احمد خان اور ڈائریکٹر پی ایچ اے ظفر یاسین شامل ہیں درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس شکایت پر انکوائری نمبر E-308-24-Lکا آغاز ہوا تھا ، تاہم ان کے بقول یہ انکوائری میرٹ کے مطابق نہیں کی گئی اور اس میں شفافیت کا فقدان رہا درخواست گزار نے مو¿قف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر ایک اور درخواست بھی جمع کروائی تھی جس میں انکوائری کو کسی سینئر، قابل اور غیر جانبدار افسر کے سپرد کرنے کی استدعا کی گئی تھی تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں تاہم ان کے مطابق کافی وقت گزرنے کے باوجود تاحال اس پر کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی اور معاملہ التوا کا شکار ہے۔ شہزاد عالم خان نے اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں۔ اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری مکمل کرنے سے قبل تمام تر قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ہوتا ہے تاکہ فریقین میں سے کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو میرٹ ترجیحات ہیں با قی جو انکوائری کا آپ ذکر کر ہے ہیں اس کا سٹیٹس دیکھ لیتے ہیں۔