لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر کم از کم 31 اکتوبر کر دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اضافی وقت دینے سے ٹیکس دہندگان کو سہولت ملے گی اور زیادہ سے زیادہ افراد و کاروبار ٹیکس ریٹرن جمع کرا سکیں گے۔ صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ کاروباری برادری کو اس وقت غیر معمولی مشکل حالات کا سامنا ہے۔ ملک میں کاروباری لاگت پہلے ہی زیادہ ہیں جبکہ عالمی تجارت اور معاشی حالات میں بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، بدلتی ہوئی ٹیرف پالیسیوں اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث عالمی تجارت کو بھی اہم چیلنجز درپیش ہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ عالمی تجارتی نظام میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ کاروباری اداروں کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنائی جائے اور ٹیکس قوانین پر عمل کرنے والے افراد اور کاروبار کو سہولت فراہم کی جائے۔ فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، اور عام افراد کو اپنے مالی ریکارڈ مکمل کرنے، اکاونٹس کا ریکارڈ درست کرنے، بینکوں اور دیگر اداروں سے ضروری معلومات حاصل کرنے اور ایف بی آر کے آن لائن نظام کے ذریعے ریٹرن مکمل کرنے کیلئے مناسب وقت درکار ہوتا ہے۔ 30 ستمبر کی آخری تاریخ تیزی سے قریب آ رہی ہے جبکہ بڑی تعداد میں ٹیکس دہندگان اب بھی اپنی دستاویزات اور ریٹرن مکمل کرنے کے عمل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور ٹیکس دہندگان میں رضاکارانہ طور پر ٹیکس قوانین پر عمل کرنے کا رجحان پیدا کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے افراد اور کاروبار کیلئے غیر ضروری مشکلات پیدا کرنا جو اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہتے ہیں۔ مناسب توسیع سے ٹیکس دہندگان کو درست اور مکمل ریٹرن جمع کرانے کا موقع ملے گا، بجائے اس کے کہ وہ جلد بازی میں ریٹرن جمع کرائیں یا نامکمل دستاویزات کی وجہ سے جرمانوں کا سامنا کریں۔لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کسی قسم کی ٹیکس چھوٹ یا واجب الادا ٹیکس معاف کرنے کے مترادف نہیں ہوگی۔ اس کا مقصد صرف ٹیکس دہندگان کو اپنی قانونی اور ٹیکس سے متعلق ذمہ داریاں درست طریقے سے مکمل کرنے کیلئے اضافی وقت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے سے ٹیکس حکام اور کاروباری برادری کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا اور اس کے نتیجے میں ٹیکس قوانین پر عملدرآمد بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایف بی آر ماضی میں بھی کاروباری تنظیموں، ٹیکس ماہرین اور عام عوام کی درخواستوں پر انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کرتا رہا ہے۔ ٹیکس سال 2025 کیلئے بھی ایف بی آر نے 30 ستمبر کی آخری تاریخ پہلے 15 اکتوبر اور بعد ازاں 31 اکتوبر تک بڑھائی تھی۔ فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ حکومت پہلے ہی معیشت کو دستاویزی بنانے اور فعال ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کوششوں کو سہولت، سادگی اور ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کیلئے مناسب وقت فراہم کرنے سے مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کاروباری اداروں کو ٹیکس نظام کا حصہ بننے اور اس میں رہنے کی ترغیب دی جانی چاہیے، نہ کہ انہیں ریٹرن جمع کرانے کی ضروریات پوری کرنے میں قابلِ گریز مشکلات کا سامنا ہو۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے فوری طور پر بڑھا کر کم از کم 31 اکتوبر 2026 کر دی جائے تاکہ ٹیکس دہندگان اپنے ریٹرن درست اور مکمل طور پر جمع کرا سکیں اور ایف بی آر بھی ٹیکس قوانین پر زیادہ بہتر اور موثر عملدرآمد یقینی بنا سکے۔
انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کی جائے:صدر لاہور چیمبر

















