نیویارک: (بیورورپورٹ) پاکستان نے کہا ہے سلامتی کونسل دہشتگردی کے ابھرتے خطرات سے نمٹنے کےلئے انسداد دہشتگردی کے ڈھانچے کو مضبوط بنائے اور پابندیوں کے موجودہ نظام میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہاپاکستان کی انسداد دہشتگردی کوششوں، انٹیلی جنس تعاون اور بین الاقوامی شراکت داروں کےساتھ سکیورٹی ہم آہنگی نے القاعدہ کی صلاحیتوں کو نمایاں حد تک کم کیا ،القاعدہ کےخلاف بین الاقوامی مہم میں سب سے نمایاں کامیابیاں پاکستان کی انسداد دہشتگردی کوششوں اور فعال تعاون کے ذریعے حاصل کی گئیں۔
عاصم افتخار کہاپاکستان نے جنگ میں بہت بھاری قیمت چکائی ، رواں صدی کے آغاز سے اب تک سکیورٹی ،قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں ،عام شہریوں سمیت 90 ہزار سے زائد پاکستانی دہشتگردی کا نشانہ بن کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ،مسلسل معاشی نقصانات بھی اٹھانے پڑے ،بین الاقوامی انسداد دہشتگردی کے فریم ورک میں خامیوں کو دور کرنے کےلئے پابندیوں کے موجودہ نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،افغانستان سے پنپنے والی دہشتگردی پر خاص تشویش ،3برسوں کے دوران 4700 سے زائد پاکستانی بھینٹ چڑھے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہاکالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور داعش سمیت دہشتگرد گروہوں کےخلاف موثر بین الاقوامی کارروائی کی جائے،دہشتگردی کےخلاف بین الاقوامی ردعمل کو تیز تر ہونا چاہیے،عالمی خطرے کےخلاف متحد ،اجتماعی محاذ بنانے کےلئے بین الاقوامی تعاون ،علاقائی ہم آہنگی کو مضبوط کرنا ہوگا۔
روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے کہاافغانستان میں داعش خراسان اب بھی سنگین سکیورٹی خطرہ اور دہشتگرد گروہوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے کے باعث عالمی سطح پر خطرے سے نمٹنے کےلئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے،مختلف خطوں کے درمیان غیر ملکی دہشتگرد جنگجووں کی نقل و حرکت اور ایک علاقے میں حاصل ہونے والے جنگی تجربے کو دوسرے علاقوں تک منتقل کرنے کا چیلنج اب بھی حل نہیں کیا جا سکا۔
سلامتی کونسل دہشت گردی کیخلاف نظام سے خامیاں دور کرے: پاکستان
















