لاہور:(نمائندہ خصوصی)محکمہ داخلہ پنجاب میں کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا 60 واں اجلاس ہوا ،صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی خواجہ سلمان رفیق، صوبائی وزیر و کو چیئرمین کابینہ کمیٹی بلال یاسین ،صوبائی وزیر سید عاشق کرمانی ،معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب رانا بلال احمد نے شرکت کی۔
کمیٹی نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا، سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اجلاس کو امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی،4 جے آئی ٹیز اور 21 کیسز کے جیل ٹرائلز کی منظوری دی گئی۔
صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق نے کہا وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا، امن و امان قائم رکھنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہیں، عوام کے جان و مال کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر سیاسی و مذہبی انتہا پسندی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
کو چیئرمین کابینہ کمیٹی بلال یاسین نے کہا امن و امان میں رخنہ ڈالنے والوں سے کسی صورت رعایت نہیں برتی جائے گی، عوامی جان و مال و املاک کا تحفظ ترجیح ہے،سید عاشق کرمانی نے کہا عوام کے جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جاسکتی، قیام امن کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
معاون خصوصی برائے وزیراعلیٰ پنجاب رانا بلال احمد نے کہا صوبے بھر میں قیام امن کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے تسلسل کےساتھ سکیورٹی انتظامات یقینی بنا رہے ہیں، سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا پنجاب بھر میں 5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ ، عوامی مقامات پر 5 یا زائد افراد کے اجتماع، جلوس ، لوگوں کو شرکت کیلئے اکسانے ،عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے ،نمائش پر مکمل پابندی ہے۔
کابینہ کمیٹی پنجاب نے 4 جے آئی ٹیز ،21 کیسز کے جیل ٹرائلز کی منظوری دےدی



















