لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے 16سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق درخواست پر وفاقی حکومت سے پالیسی اور میکنزم طلب کر لیا ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے شہری حسنین العابدین کی درخواست پر سماعت کی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سیکرٹری وزارت کامرس سلیمان مفتی، جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ ثنا اللہ، چیف لیگل ممبر کسٹم، چیف کلکٹر پنجاب سمیت دیگر افسران ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت علی ڈوگر کے ہمراہ پیش ہوئے اور رپورٹ جمع کروائی۔سماعت کے دوران عدالت نے ممبر کسٹم آپریشن سمیت دیگر افسران کے پیش نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آگئے ہیں سارے کے سارے یا نہیں آئے؟ ممبر لیگل کسٹم آئے ہیں، لیگل ایڈوائزر کسٹم کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ممبر لیگل کسٹم کو بلوایا تھا یا ممبر کسٹم آپریشن کو؟ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ممبر کسٹم آپریشن کو بلوایا تھا۔ لیگل ایڈوائزر کسٹم نے کہا کہ ممبر کسٹم آپریشن کراچی میں ہیں، وہاں انہیں ضروری کام تھا، چیئرمین ایف بی آر بھی کراچی میں ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیوں پیش نہیں ہوئے، عدالت کو اپنے حکم کی تعمیل کروانا آتی ہے۔ دورا ن سماعت لیگل ایڈوائزر کسٹم نے کچھ دستاویزات دینا چاہئیںجس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیا آپ سول کورٹ میں کھڑے ہیں کہ جو ڈاکومنٹ دیں گے وہ پکڑ لیں گے ؟ کیا آپ پہلے کبھی ہائیکورٹ پیش ہوئے ہیں؟ جتنا غیر ضروری بولیں گے اتنا پھنسیں گے۔دوران سماعت لیگل ایڈوائزر کسٹم عدالت کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سیکرٹری کامرس اور سیکرٹری داخلہ کا جواب آ گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کم عمر بچے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، کیا سارے محکمے سو گئے ہیں؟ آنے والے دنوں میں کسی کی بھی شخص کی پرائیویسی نہیں رہے گی۔ کیا آپ کو پتہ ہے یہ وی عینکیں دکانوں میں بک رہی ہیں؟ ،حکومت نے اس معاملے پر کیا کیا؟۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزارت کامرس میٹا گلاسز کی امپورٹ پر پابندی کیلئے ریگولیشن بنا کر کابینہ میں پیش کرے گی، سمری تیار کر لی ہے جو منظوری کیلئے رکھی جائے گی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اس سے پہلے کوئی پالیسی نہیں تھی؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس سے پہلے کوئی پالیسی نہیں تھی، اس لیے نوٹس نہیں لیا گیا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دئیے کہ کل کو کسی کی بھی ویڈیو بن سکتی ہے، سوشل میڈیا کے استعمال کا جا کر بچوں سے پوچھیں وہ بتائیں گے، سب کچھ اب سوشل میڈیا پر چل رہا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ جو سمری بنائی ہے اسے کابینہ کو بھجوایا جائے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی۔
کم عمر بچے سوشل میڈیا میں گم، سارے محکمے سو گئے : چیف جسٹس



















