لاہور (اپنے نمائندے سے) شہر کا 90 فیصد سیوریج پانی ٹریٹ کرکے راوی میں ڈالنے کا منصوبہ، پلانٹ کی منظوری دیدی گئی۔ شہر بھر کے سیوریج کا پانی سالہاسال سے راوی میں بغیر ٹریٹ کے ڈالا جا رہا تھا جس پر۔حکومت پنجاب کا سیوریج کو 100 فیصد ٹریٹ کرنے کیلئے بابو صابو، کٹار بند، موہلنوال، فیروزپور روڈ، شاد باغ اور بی آر بی پر 6 پلانٹس لگانا تھے مگر تین دہائیوں بعد صرف بابو صابو کا منصوبہ حتمی منظوری تک پہنچا ہے۔ بابو صابو پلانٹ کو 13 اگست کو PDWP اور 21 اگست 2026 کو ECNEC نے 56 ارب روپے سے منظور کیا۔ یہ 836 ایکڑ پر بنے گا، ابتدائی صلاحیت 88 ایم جی ڈی ہوگی جو بعد میں 198 ایم جی ڈی تک جائے گی۔ فنڈنگ میں 24 فیصد پنجاب حکومت اور 74 فیصد فرانسیسی ایجنسی AFD دے گی۔ محکمہ ہاوسنگ کے مطابق بڈنگ کے بعد 6 ماہ میں کام شروع ہوگا۔ شیڈول 12 ماہ پری کنسٹرکشن، 42 ماہ تعمیر اور 36 ماہ آپریشن پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں کینٹ ڈرین، ملتان روڈ اور گلشن راوی کا پانی صاف کرکے راوی میں چھوڑا جائیگا۔ایم ڈی واسا غفران احمد کے مطابق یہ راوی کو بچانے میں سنگ میل ہوگا، دوسرا بڑا منصوبہ کٹار بند 23 ارب کا ہے مگر اس کا PC-I تاحال ECNEC میں پیش نہیں ہو سکا۔ فیروزپور روڈ پر 1.3 ارب کی 4 کلومیٹر فورس مین لائن کی تجویز بھی فنڈز کی منتظر ہے۔ موہلنوال اور شاد باغ کے پلانٹس اگلے فیز میں ہیں۔دوسری جانب بی آر بی کینال پر 31 ارب کا سرفیس واٹر پلانٹ بھی اہم ہے۔ لاہور کے 594 ٹیوب ویل روزانہ 329 ایم جی ڈی پانی نکال رہے ہیں جس سے واٹر ٹیبل سالانہ 3 سے 5 فٹ گر رہی ہے۔ 54 ایم جی ڈی کے اس پلانٹ سے 17 لاکھ شہری مستفید ہوں گے۔ اسے CDWP سے منظوری مل چکی، ECNEC سے باقی ہے۔ فنڈنگ AIIB سے 235 ملین ڈالر متوقع ہے۔ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ مریم نواز کے وژن کے تحت تمام منصوبے مرحلہ وار مکمل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق 6 پلانٹس کیلئے 200 ارب سے زائد درکار ہیں۔
لاہورکا 90 فیصد سیوریج پانی ٹریٹ کرکے دریائے راوی میں ڈالنے کا منصوبہ



















