توقیرنذیر کیسے مارا گیا؟ دوسرا ساتھی کہاں؟ وسیم عباس کو کیوں کچلا؟ اصل حقائق آ گئے

ملتان میں معصوم وسیم عباس کی موت کا مقدمہ ایک نئے اور سنسنی خیز موڑ پر پہنچ گیا۔۔۔! پندرہ سالہ یتیم بچے کو گاڑی تلے کچلنے کا مرکزی ملزم توقیر نذیر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
کہا جارہا ہے کہ انسانیت سوز واقعہ کا ملزم اپنے انجام کو پہنچا ۔۔۔۔۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔۔۔ کیو ںکہ ایک طرف وہ لڑکا جسے انتہائی بے رحمی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتاردیاگیا، دوسری طرف وہ سوالات جن کے جواب ملنا ابھی باقی ہیں۔۔۔
آخر ایک سنگین مقدمے کا ملزم پولیس حراست سے فرار کیسے ہوا؟۔۔۔۔ وہ دوبارہ قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے بہاولپور کیسے پہنچا؟۔۔۔۔ اور سب سے اہم سوال۔۔۔ کیا ملزم کی ہلاکت کے بعد وسیم عباس کو مکمل انصاف گیا؟۔۔۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، کے مطابق بہاولپور کے ناردرن بائی پاس پر مبینہ پولیس مقابلے کے دوران توقیر نذیر اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ہوا، جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس کے اس مؤقف کے بعد اب اس پورے واقعے کی شفاف تحقیقات اور تمام حقائق سامنے لانے کا مطالبہ مزید اہم ہوگیا ہے۔
یہ صرف ایک ملزم کی ہلاکت کی خبر نہیں۔۔۔ملک میںانصاف کی فراہمی کے حوالے سے عدالتی نظام پرعدم اعتماد بھی ہے ۔
کیا ریاستی ادار ے اس قدرکمزور ہوچکے ہیں کہ انصاف کے لیے عدالتوں پرانحصار ختم کرنے کی خودساختہ پالیسی پرعمل پیرا ہیں پاپھر عدالتی سقم اس قدر مضبوط ہیں کہ ملزم کابچنا مشکل نہ سہی ممکن ضرورہے ۔
وسیم عباس ایک ایسا یتیم بچہ جس کی زندگی ابھی شروع ہوئی تھی، جس کے خواب ابھی آنکھوں میں تھے، جسے ابھی بہت کچھ سیکھنا تھا، بہت آگے جانا تھا۔۔۔ مگر موت نے اسے ایسی عمر میں چھین لیا جب بچے اپنے مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں۔
یہ کہانی ہے پندرہ سالہ وسیم عباس کی۔۔۔ ایک یتیم بچے کی، جس کے سر سے والد کا سایہ اٹھ چکا تھا اورجسے ماں کی دوسری شادی کے باعث یتیم خانے میں اپنے چھوٹے بھائی سمیت محض اس لیے داخل کروادیا گیا تھا کہ شاید زندگی میں کسی قابل ہوسکے ۔۔۔۔۔۔جو بہتر مستقبل کی امید لیے زندگی گزار رہا تھا۔ پولیس کے مطابق وسیم کو الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ملزم توقیر نذیر کے پاس بھیجا گیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ بچہ کوئی ہنر سیکھے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور زندگی میں آگے بڑھ سکے۔
لیکن افسوس۔۔۔ جس راستے پر وسیم کو اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے چلنا تھا، وہی راستہ اس کی زندگی کے خاتمے پر جا پہنچا۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق وسیم کام چھوڑ کر جانا چاہتا تھا اور اسے مبینہ طور پر تشدد اور دھمکیوں کا سامنا بھی تھا۔ ان الزامات کی مکمل حقیقت تفتیش اور عدالتی کارروائی سے سامنے آنی چاہیے، لیکن ایک کم عمر بچے کی موت نے اس کے تحفظ، اس کے حقوق اور اس کی بے بسی سے متعلق کئی سنگین سوالات ضرور کھڑے کردیے۔
آخر وہ کون سے حالات تھے جن میں ایک بچہ اپنی زندگی سے محروم ہوگیا؟ وہ موت کی طرح اس کاپیچھا کرتی کارکے آگے بھاگتا ہوا کس خوف سے نکلنا چاہتا تھا؟ اور کیا اس کی فریاد کسی ایسے شخص تک پہنچی جو اسے تحفظ دے سکتا تھا؟
ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک ایسا واقعہ۔۔۔۔۔ جس نے درندگی کی مثال قائم کرتے ہوئے انسانیت کو بھی انگشت بدنداں کردیا اور۔۔۔۔۔بے حسی اپنا ننگا ناچ ناچتی رہی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک کم عمر لڑکے کو گاڑی سے بچنے کے لیے بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ گاڑی اس کا تعاقب کرتی دکھائی دیتی ہے۔ چند لمحوں بعد گاڑی لڑکے کو ٹکر مارتی ہے اور وہ قریبی گھر کے گیٹ سے جا ٹکراتا ہے۔
یہ وہ چند لمحے تھے جنہوں نے ایک خاندان کی دنیا اجاڑ دی۔۔۔ ایک بچے کے مستقبل پر ہمیشہ کے لیے سوالیہ نشان لگا دیا۔۔۔ اور پورے معاشرے کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ آخر ہمارے بچوں کی زندگیاں کتنی محفوظ ہیں؟
وسیم عباس کی موت کے بعد ابتدائی طور پر واقعے کو حادثہ قرار دینے کا مؤقف سامنے آیا، لیکن سامنے آنے والی فوٹیجز اور واقعے کے دیگر شواہد نے معاملے کو سنگین رخ دے دیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کیا، جس میں توقیر نذیر سمیت دو افراد کو نامزد کیا گیا۔ مقدمے میں قتل اور مشترکہ نیت سے جرم کرنے کی دفعات شامل کی گئیں۔
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے۔۔۔ کسی بھی مقدمے میں اصل حقائق کا تعین شواہد، تفتیش اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہوتا ہے۔ لیکن جب معاملہ ایک کم عمر بچے کی جان کا ہو، تو ہر سوال کا جواب تلاش کرنا اور ہر پہلو کی غیر جانب دارانہ جانچ کرنا مزید ضروری ہوجاتا ہے۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم توقیر نذیر کو گرفتار کیا اور اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے تفتیش کے لیے اس کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ بظاہر تفتیش آگے بڑھ رہی تھی، لیکن پھر اس کیس میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے پولیس کی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کردیے۔
پولیس کے مطابق توقیر نذیر دورانِ حراست فرار ہوگیا۔
جی ہاں۔۔۔ ایک ایسے کیس کا مرکزی ملزم جس پر ایک پندرہ سالہ بچے کی موت کا سنگین الزام تھا، پولیس کی تحویل سے فرار ہوگیا!
یہاں سوال اٹھنا فطری ہے۔۔۔ آخر ملزم فرار کیسے ہوا؟ اس وقت اس کی نگرانی کون کررہا تھا؟ کیا سیکیورٹی کے انتظامات میں کوئی خامی تھی؟ کیا کسی اہلکار کی غفلت سامنے آئی؟ اور اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
یہ سوالات کسی ایک ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے اہم ہیں کہ قانون کی گرفت میں آنے والا ملزم اگر حراست سے فرار ہوجائے تو تفتیش اور احتساب دونوں پر اثر پڑتا ہے۔ اس واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے لانا اور ذمہ داری کا تعین کرنا ضروری ہے۔
وسیم عباس کے اہلِ خانہ کے لیے یہ صرف ایک قانونی مقدمہ نہیں تھا۔۔۔ یہ ان کے بچے کی موت کا دکھ تھا، اس کے لیے انصاف کی امید تھی اور ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش تھی جو اس کی موت کے بعد مسلسل اٹھ رہے تھے۔
پھر تازہ ترین خبر سامنے آئی۔۔۔ بہاولپور سے!
سی سی ڈی حکام کے مطابق بہاولپور کے ناردرن بائی پاس پر اہلکاروں نے موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو رکنے کا اشارہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نے فرار ہونے کی کوشش کی اور فائرنگ شروع کردی۔ فائرنگ کے تبادلے میں توقیر نذیر ہلاک ہوگیا، جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب رہا۔
پولیس کے مطابق توقیر نذیر اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے مارا گیا۔
یوں وسیم عباس قتل کیس کا مرکزی ملزم اب زندہ نہیں رہا۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس کیس میں ایک اور اہم سوال پیدا ہوگیا ہے: کیا ملزم کی ہلاکت کے بعد تفتیش کے تمام پہلو مکمل طور پر سامنے آسکیں گے؟
پولیس کے مطابق فرار ہونے والے اس شخص کی گرفتاری کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات سامنے آنا ضروری ہیں۔
کیوں کہ کسی ملزم کی ہلاکت کسی مقدمے کے تمام سوالات کا خودبخود جواب نہیں بن جاتی۔
وسیم عباس کی موت سے متعلق دستیاب شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، مقدمے کا ریکارڈ اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کو محفوظ رکھتے ہوئے قانون کے مطابق ان کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اگر مقدمے میں دوسرے ملزم یا کسی اور کردار کا تعلق ثابت ہوتا ہے تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی طرح توقیر نذیر کے دورانِ حراست فرار ہونے کے معاملے کی بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں۔
اور اب آتے ہیں اس کیس کے سب سے اہم پہلو کی طرف۔۔۔ انصاف!
وسیم عباس واپس نہیں آسکتا۔۔۔ اس کی زندگی واپس نہیں آسکتی۔۔۔ اس کے ادھورے خواب پورے نہیں ہوسکتے۔ اس کے اہلِ خانہ جس دکھ سے گزر رہے ہیں، اس کا مداوا محض ایک خبر، ایک بیان یا ایک گرفتاری سے ممکن نہیں۔
لیکن اس بچے کی موت کو ایک اور بھولی بسری خبر بننے سے روکا جاسکتا ہے۔۔۔ اس کے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔۔۔ اور اس کے ذریعے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے کہ کم عمر اور بے سہارا بچوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ وسیم عباس کی جان کیسے گئی۔۔۔ سوال یہ بھی ہے کہ اس کی حفاظت کیوں نہ ہوسکی؟ اس کے لیے محفوظ ماحول کیوں یقینی نہ بنایا جاسکا؟ اور اگر کسی بچے کو کسی جگہ خطرہ لاحق ہو تو اسے فوری تحفظ فراہم کرنے کا مؤثر نظام کہاں ہے؟
یہ معاملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچوں کو کام سکھانے، ان کی تربیت کرنے اور انہیں بہتر مستقبل کی طرف لے جانے کے نام پر ان کے تحفظ اور بنیادی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی بچے کی عزت، سلامتی اور زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
ملتان کے 15 سالہ وسیم عباس کی کہانی ایک ایسے سوال پر ختم ہوتی ہے جس کا جواب پورے معاشرے کو دینا ہے۔۔۔ کیا ہم اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل دے پا رہے ہیں؟
ایک بچہ دنیا سے چلا گیا۔۔۔ مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔۔۔ لیکن کیا اس کے ساتھ انصاف کے تمام تقاضے بھی پورے ہوگئے؟ نہیں۔۔۔ اس کا جواب صرف شفاف تحقیقات، مکمل حقائق اور قانون کے مطابق کارروائی سے ہی مل سکتا ہے۔
کیونکہ انصاف کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کسی مقدمے کا ایک ملزم زندہ نہ رہے۔۔۔ انصاف کا مطلب یہ ہے کہ سچ سامنے آئے، ہر سوال کا جواب ملے، ذمہ داروں کا تعین ہو اور قانون سب کے لیے یکساں طور پر حرکت میں آئے۔
وسیم عباس کے لیے انصاف یہی ہے کہ اس کی موت کے ہر پہلو کی مکمل چھان بین ہو، اس کے اہلِ خانہ کو قانونی عمل سے باخبر رکھا جائے اور اس مقدمے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
وسیم عباس اب واپس نہیں آئے گا، لیکن اس کے نام پر اٹھنے والے سوالات کو خاموش نہیں ہونا چاہیے۔
کیو ںکہ جب تک سچ سامنے نہیں آتا، جب تک ذمہ داری کا تعین نہیں ہوتا، اور جب تک قانون کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔۔۔ تب تک یہ سوال زندہ رہے گا: وسیم عباس کو انصاف کون دلائے گا؟