افرادی قوت کی شدید کمی، NCCIA میں نئے سائبر پولیس تھانوں کا قیام سوالیہ نشان

لاہور (میاں ذیشان) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں شدید افرادی قوت کی کمی کا اعتراف کئے جانے کے بعد لاہور سمیت پنجاب بھر میں سائبر جرائم کے متاثرین کو فوری انصاف کی فراہمی، زیرالتوا شکایات و مقدمات کی تفتیش اور نئے سائبر پولیس تھانوں کے قیام کا معاملہ سنگین سوال بن گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے لاہور میں این سی سی آئی اے حکام کے ساتھ گفتگو کے دوران انکشاف کیا کہ تقریباً 14 کروڑ آبادی والے صوبہ پنجاب میں سائبر جرائم کی تحقیقات کیلئے پورے صوبے میں صرف 61 افسران تعینات ہیں، جبکہ ایک تفتیشی افسر کے ذمے تین سے چار ہزار تک مقدمات ہونے کی صورت میں موثر تفتیش، مدعیان کی شنوائی، عدالتوں میں پیشی اور چالان کی تیاری عملی طور پر انتہائی دشوار ہے، محسن نقوی نے وزیراعظم شہبازشریف کے سامنے این سی سی آئی اے کی افرادی قوت بڑھانے کا معاملہ اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے وسائل میں اضافے، مزید دفاتر اور ملک بھر میں خصوصی سائبر پولیس تھانوں کے قیام کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ نئے تھانوں کے قیام کے انتظامات 10 سے 15 روز میں مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، دوسری جانب افرادی قوت کے بحران کی شدت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ این سی سی آئی اے نے رواں ماہ پنجاب پولیس سے 300 افسران و اہلکار ڈیپوٹیشن پر طلب کئے ہیں جن میں 30 ڈی ایس پیز، 30 انسپکٹرز، 115 سب انسپکٹرز، 25 اے ایس آئیز اور 100 ہیڈ کانسٹیبل و کانسٹیبل شامل ہیں، جبکہ پنجاب پولیس کی جانب سے 107 افسران و اہلکاروں کی فہرست بھی بھجوائی جا چکی ہے اور باقی 193 اہلکاروں کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے، اس صورتحال میں لاہور سمیت پنجاب میں آن لائن فراڈ، مالیاتی فراڈ، ہراساں کرنے، بلیک میلنگ، نجی تصاویر و ویڈیوز کے غلط استعمال، بچوں کے خلاف آن لائن جرائم اور غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کا بڑھتا ہوا دباﺅ ادارے کی استعداد کار کیلئے بڑا چیلنج بن گیا ہے، حالیہ کارروائیوں میں این سی سی آئی اے لاہور زون نے 7 غیرقانونی کال سینٹرز کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے 281 ملزمان کو گرفتار کیا، جبکہ مالیاتی فراڈ کے پانچ مقدمات اور 10 انکوائریوں میں ایک کروڑ 92 لاکھ 46 ہزار 240 روپے کی رقم بھی برآمد کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے، تاہم دوسری جانب شہریوں کی شکایات کے ازالے میں تاخیر کی بنیادی وجوہات میں محدود تفتیشی نفری، فی افسر غیرمعمولی مقدمات کا بوجھ، ڈیجیٹل شواہد کی فرانزک جانچ، مختلف اداروں اور بینکوں سے معلومات کے حصول، عدالتی کارروائی اور مقدمہ درج کرنے سے قبل قانونی انکوائری کا عمل شامل ہیں، این سی سی آئی اے حکام کے مطابق شکایت کے بعد انکوائری، متعلقہ کمیٹی سے منظوری اور شواہد کی جانچ کے مراحل مکمل ہونے کے بعد ایف آئی آر درج کی جاتی ہے، جس کے باعث بعض معاملات میں فوری کارروائی ممکن نہیں ہوپاتی، ستمبر میں این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے تمام سرکلز کو زیرالتوا شکایات، انکوائریز اور مقدمات کی روزانہ بنیاد پر نگرانی اور مقررہ مدت میں نمٹانے کی ہدایات بھی جاری کی تھیں، جبکہ لاہور ہائیکورٹ بھی ایک شہری کی درخواست کے بروقت فیصلے میں تاخیر پر این سی سی آئی اے سے زیرالتوا انکوائریز کا ریکارڈ طلب کر چکی ہے، جس سے معاملے کی حساسیت مزید واضح ہوتی ہے، وفاقی وزیر داخلہ نے خود بھی قرار دیا ہے کہ خواتین اور بچیوں کو آن لائن ہراساں یا بلیک میل کرنے جیسے حساس معاملات میں ہفتوں یا مہینوں کی تاخیر قابل قبول نہیں بلکہ بعض کیسز میں چند گھنٹوں کے اندر کارروائی ضروری ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ محدود نفری کے باوجود سائبر جرائم کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور اضافی افرادی قوت، وسائل اور نئے تھانوں کے قیام سے شکایات کے بروقت ازالے اور تفتیشی عمل میں بہتری لانے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم اصل امتحان 10 سے 15 روز میں نئے سائبر پولیس تھانوں کے عملی قیام، مطلوبہ نفری کی تعیناتی اور لاہور سمیت پنجاب میں پہلے سے موجود شکایات و مقدمات کے بیک لاگ کو کم کرنے کا ہوگا تاکہ سائبر جرائم کا شکار شہری محض شکایت درج کرانے تک محدود نہ رہیں بلکہ انہیں بروقت انصاف اور عملی ریلیف بھی فراہم کیا جاسکے۔