لاہور (میاں ذیشان) الرحیم ڈویلپرز کے چیئرمین چوہدری سجاد مہیس اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہمایوں سجاد مہیس کی زیرانتظام الرحیم گارڈن فیز V رائل انکلیو میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کا سلسلہ بدستور جاری، جنرل بلاک، کراﺅن بلاک، لیک ماﺅنٹ بلاک، رائل انکلیو سی اور رائل انکلیو ڈی سمیت متعدد بلاکس کی مبینہ طور پر مجاز ادارے سے حتمی منظوری حاصل کئے بغیر تشہیر، بکنگ اور پلاٹوں کی خرید و فروخت کے ذریعے شہریوں سے اربوں روپے وصول کئے گئے، سوسائٹی میں درجنوں کنال مبینہ سرکاری نالوں، کھالوں اور دیگر سرکاری رقبے کو بھی شامل کرکے اسے رہائشی پلاٹوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، سرکاری اراضی کے متبادل رقبے کی فراہمی اور متعلقہ محکمہ سے قانونی اجازت حاصل کرنے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھ گئے، متاثرین اور شہریوں نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی، محکمہ مال، لیسکو، واسا اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کے تمام بلاکس کی منظوری، زمین کی ملکیت، سرکاری رقبے کی شمولیت، بجلی و سیوریج کے انتظامات، ترقیاتی کاموں، تشہیر، بکنگ اور پلاٹوں کی خرید و فروخت کی مکمل قانونی جانچ کی جائے، حتمی منظوری تک غیر منظور شدہ بلاکس میں پلاٹوں کی خرید و فروخت اور نئی تعمیرات روکی جائیں جبکہ مبینہ خلاف ورزیوں میں ملوث ذمہ داران کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی تفصیلات کے مطابق رائل انکلیو میں مبینہ بے ضابطگیوں کے باوجود کارروائی نہ ہونے پر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ بلڈنگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے، الرحیم ڈویلپرز کے چیئرمین چوہدری سجاد مہیس اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہمایوں سجاد مہیس کی زیرانتظام الرحیم گارڈن فیز V رائل انکلیو کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں اور قانونی تقاضوں کی تکمیل سے متعلق متعدد سوالات سامنے آ گئے ہیں، ذرائع کے مطابق جنرل بلاک، کراﺅن بلاک، لیک ماﺅنٹ بلاک، رائل انکلیو سی اور رائل انکلیو ڈی سمیت مختلف بلاکس کی منظوری، تشہیر، بکنگ اور پلاٹوں کی خرید و فروخت کے قانونی مراحل کی مکمل تصدیق تاحال سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے اور شہری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ مذکورہ تمام بلاکس کیلئے مجاز ادارے سے باقاعدہ اور حتمی منظوری حاصل کی گئی تھی یا نہیں، اگر کسی بلاک کی حتمی منظوری کے بغیر اس کی تشہیر، بکنگ یا پلاٹوں کی فروخت کی گئی ہے تو اس معاملے میں نہ صرف انتظامیہ بلکہ نگرانی کے ذمہ دار متعلقہ سرکاری افسران کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے، دوسری جانب رائل انکلیو میں شامل مبینہ سرکاری نالوں، کھالوں اور دیگر سرکاری رقبے کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ محکمہ مال کے ریکارڈ، خسرہ جات اور موقع پر موجود رقبے کا باقاعدہ تقابلی جائزہ لے کر یہ معلوم کیا جائے کہ آیا کوئی سرکاری زمین نجی ہاﺅسنگ منصوبے میں شامل ہوئی ہے یا نہیں، اگر سرکاری رقبہ شامل ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو اس کے استعمال، متبادل رقبے کی فراہمی اور متعلقہ محکموں سے اجازت کے قانونی تقاضوں کی بھی مکمل جانچ ضروری ہے، بجلی کی فراہمی کے معاملے میں بھی سوسائٹی کی جانب سے لیسکو کو مراسلہ ارسال کئے جانے کی اطلاعات ہیں تاہم بجلی کی فراہمی کیلئے مطلوبہ منظوریوں، حفاظتی تقاضوں اور دیگر قانونی مراحل کی تکمیل سے متعلق ریکارڈ سامنے لانے کی ضرورت ہے، اسی طرح سیوریج کے نظام کے حوالے سے رہائشیوں کی جانب سے شکایات سامنے آنے کی اطلاعات ہیں کہ بعض مقامات پر سیوریج کا پانی قریبی خالی پلاٹوں یا ملحقہ اراضی میں چھوڑا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں تعفن، نکاسی آب کے مسائل اور ماحولیاتی آلودگی کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر سیوریج کا مستقل اور منظور شدہ نظام موجود نہیں تو متعلقہ اداروں کو فوری طور پر موقع کا معائنہ کرکے صورتحال واضح کرنی چاہیے، سوسائٹی میں منظور شدہ نقشے کے مطابق ترقیاتی کاموں، سڑکوں، گلیوں، پارکس، قبرستان، عوامی سہولیات اور دیگر مختص رقبے کے استعمال کی بھی جانچ ضروری قرار دی جا رہی ہے، ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر ترقیاتی سرگرمیوں، تعمیرات اور پلاٹوں کی تشہیر و فروخت کے حوالے سے بھی قانونی تقاضوں کی تکمیل پر سوالات موجود ہیں، جبکہ شہریوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ پلاٹوں کی بکنگ اور رقوم کی وصولی سے قبل خریداروں کو منصوبے کی قانونی حیثیت، منظور شدہ لے آﺅٹ پلان، زمین کی ملکیت اور بنیادی سہولیات سے متعلق مکمل اور درست معلومات فراہم کیے جانے کو یقینی بنایا جائے، رائل انکلیو میں شامل زمین کے خسرہ جات، ملکیتی حیثیت، سرکاری رقبے کی ممکنہ شمولیت، منظور شدہ کل رقبے، بلاکس کی تعداد اور فروخت کیے گئے پلاٹوں کی تعداد کا ریکارڈ کی بنیاد پر جامع فرانزک جائزہ لینے کی ضرورت بھی زور پکڑ گئی ہے، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ بلڈنگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے ماضی میں جاری کیے گئے نوٹسز، معائنہ رپورٹس، فائل نوٹنگ، منظوریوں اور انتظامیہ کے ساتھ ہونے والی خط و کتابت بھی سامنے لائی جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے باوجود ان کے سدباب کیلئے کیا اقدامات کیے گئے، شہریوں نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی، محکمہ مال، لیسکو، واسا اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ رائل انکلیو کے تمام بلاکس، زمین کی ملکیت، سرکاری رقبے کی ممکنہ شمولیت، بجلی و سیوریج کے انتظامات، ترقیاتی سرگرمیوں، تشہیر، بکنگ اور پلاٹوں کی خرید و فروخت کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، حتمی منظوری اور قانونی حیثیت واضح ہونے تک کسی بھی غیر منظور شدہ سرگرمی کو روکا جائے اور اگر تحقیقات میں کسی سرکاری افسر یا نجی فریق کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی، غفلت یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی تصدیق ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
لاہور (سپیشل رپورٹر) رائل انکلیو ہاﺅسنگ سوسائٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روزنامہ ”مشرق“ میں رائل انکلیو کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں صحافتی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر مرتبہ الرحیم ڈویلپرز کے فوکل پرسن سید علی ارتضیٰ سے انتظامیہ کا موقف اور وضاحت حاصل کرنے کیلئے باقاعدہ رابطہ کیا گیا، تاہم ان کی جانب سے نہ تو کسی خبر کے حوالے سے کوئی وضاحتی بیان فراہم کیا گیا اور نہ ہی کوئی باقاعدہ موقف پیش کیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق موقف کی غیر موجودگی میں خبر میں متعلقہ فریق کا موقف شامل کرنا ممکن نہیں ہوتا، تاہم صحافتی تقاضوں اور حقائق کے دونوں پہلو سامنے لانے کے اصول کے تحت اس مرتبہ الرحیم ڈویلپرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہمایوں سجاد مہیس سے بھی ان کے تصدیق شدہ سماجی رابطے کے اکاﺅنٹ پر براہ راست رابطہ کرکے رائل انکلیو کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں، اٹھائے گئے سوالات اور مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق انتظامیہ کا موقف اور وضاحت طلب کی گئی، لیکن ان کی جانب سے بھی تاحال کوئی تحریری موقف، وضاحت یا جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ روزنامہ مشرق کی جانب سے متعلقہ فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جا رہا ہے اور ادارہ کسی بھی فریق کا موقف سامنے آنے کی صورت میں اسے صحافتی اصولوں کے مطابق مناسب جگہ اور سیاق و سباق کے ساتھ شائع کرنے کیلئے تیار ہے۔ اگر الرحیم ڈویلپرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہمایوں سجاد مہیس، فوکل پرسن سید علی ارتضیٰ یا الرحیم ڈویلپرز کی انتظامیہ رائل انکلیو کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں اٹھائے گئے سوالات، زمین کی ملکیت، مختلف بلاکس کی منظوری، ترقیاتی سرگرمیوں، تشہیر، بکنگ، پلاٹوں کی خرید و فروخت، بجلی، سیوریج یا دیگر معاملات پر کوئی وضاحت یا اپنا موقف پیش کرنا چاہیں تو روزنامہ مشرق ان کا موقف من و عن شائع کرے گا تاکہ معاملے کے تمام متعلقہ پہلو قارئین کے سامنے آ سکیں۔
لاہور (سپیشل رپورٹر) روزنامہ ”مشرق“ میں رائل انکلیو کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ بلڈنگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ذمہ داریوں سے متعلق سوالات پر ادارہ جاتی موقف جاننے کیلئے ڈائریکٹر پبلک ریلیشن عابد لطیف اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیر افضل بٹ سے رابطہ کیا گیا، تاہم دونوں افسران کی جانب سے کسی وضاحت یا ادارہ جاتی موقف کے بجائے تاحال خاموشی اختیار کی جا رہی ہے، جس کے باعث شعبہ تعلقات عامہ کے کردار اور ذرائع ابلاغ کو بروقت معلومات فراہم کرنے کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ روزنامہ مشرق نے رائل انکلیو کے مختلف بلاکس کی منظوری، مبینہ غیر قانونی تعمیرات، تشہیر، بکنگ، پلاٹوں کی خرید و فروخت اور شعبہ بلڈنگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی مبینہ غفلت سمیت دیگر معاملات پر متعلقہ افسران کا موقف جاننے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران یا مجاز ترجمان اگر مذکورہ خبروں کے حوالے سے کوئی وضاحت یا موقف پیش کرنا چاہیں تو ادارہ ہذا ان کا موقف من و عن شائع کرے گا۔
الرحیم گارڈن فیز V رائل انکلیو میں غیرقانونی سرگرمیاں دھڑلے سے جاری


















