پولیس اہلکاروں کو باڈی کیمرے لگانے کے منصوبے میں تیزرفتاری سے پیشرفت

لاہور (مرزا ندیم بیگ) پنجاب پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیسنگ کو مزید شفاف اور جوابدہ بنانے کیلئے باڈی کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھنے لگا، منصوبہ صرف لاہور پولیس تک محدود نہیں بلکہ پورے پنجاب میں نافذ کیا جائے گا، تاہم عملی طور پر اس کا آغاز لاہور سے کر دیا گیا ہے۔ لاہور میں پولیس اہلکاروں کی تربیت مکمل ہونے کے بعد تھانوں میں باڈی کیمروں کے ڈوکنگ سٹیشنوں کی تنصیب شروع کر دی گئی ہے جبکہ مرحلہ وار صوبے کے دیگر اضلاع تک اس نظام کو توسیع دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے ابتدائی طور پر 17 ہزار 812 باڈی کیمروں کی منظوری دی تھی تاہم بعدازاں ان کی تعداد بڑھا کر 30 ہزار کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ اس اضافے کے تحت 12 ہزار 188 مزید باڈی کیمرے فراہم کئے جائیں گے۔ ایک باڈی کیمرے کی منظور شدہ قیمت 95 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، اس حساب سے 30 ہزار کیمروں کی لاگت تقریباً 2 ارب 85 کروڑ روپے بنتی ہے۔ منصوبے کے ساتھ پولیس اہلکاروں کیلئے 1500 پینک بٹن بھی فراہم کیے جائیں گے، جن کی فی یونٹ قیمت ایک لاکھ 35 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ باڈی کیمروں اور پینک بٹنوں سمیت مجموعی لاگت تقریباً 3 ارب 5 کروڑ 25 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔اس سے قبل پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی جانب سے جاری آر ایف پی میں مختلف پولیس یونٹس کیلئے 25 ہزار 264 باڈی کیمروں، 3 ہزار 158 ڈوکنگ و اسٹوریج سلوشنز اور 1459 پینک بٹنوں کی خریداری کی تجویز سامنے آئی تھی، جس کا مجموعی تخمینہ آپریشنل اخراجات سمیت تقریباً 2 ارب 84 کروڑ روپے تھا۔ بعدازاں کیمروں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ منصوبے کا حجم بھی بڑھا دیا گیا۔تازہ صورتحال کے مطابق باڈی کیمرے پنجاب پولیس، پنجاب ہائی وے پٹرول، ڈولفن فورس اور ٹریفک وارڈنز کے استعمال میں لائے جائیں گے۔ کیمروں کو صوبے کے 43 شہروں میں قائم اسمارٹ سیف سٹی نظام سے منسلک کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے فیلڈ میں موجود اہلکاروں کی کارروائیوں کی نگرانی اور ریکارڈنگ ممکن ہو سکے گی۔ کیمروں میں چہرہ شناخت کرنے اور گاڑیوں کے نمبر پلیٹس پڑھنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔باڈی کیمروں کے استعمال سے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان ہونے والی گفتگو اور فیلڈ کارروائیوں کا ویڈیو ریکارڈ محفوظ ہونے کی توقع ہے۔ اس طرح کسی شہری کی جانب سے پولیس اہلکار کے ناروا رویے، اختیارات سے تجاوز، غیر ضروری سختی یا کسی کارروائی سے متعلق شکایت سامنے آنے کی صورت میں دستیاب ویڈیو ریکارڈ تحقیقات میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔اسی طرح پولیس اہلکاروں کو بھی کسی شہری کی جانب سے غلط الزام عائد کیے جانے کی صورت میں اپنے مو¿قف کی تائید کیلئے ویڈیو شواہد میسر ہوں گے۔ یوں شکایات کی جانچ محض زبانی بیانات کے بجائے دستیاب ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر کرنے کا امکان پیدا ہوگا۔پولیس اہلکاروں کو دورانِ ڈیوٹی کیمرہ استعمال کرنے کی پابندی اور ریکارڈ محفوظ رکھنے کا مو¿ثر نظام قائم ہونے کی صورت میں پولیسنگ میں جوابدہی کا ایک نیا ذریعہ پیدا ہوگا۔ چھاپوں، ناکہ بندی، گرفتاری، تلاشی، ٹریفک کارروائی اور دیگر فیلڈ آپریشنز کے دوران ہونے والے واقعات کی ریکارڈنگ بعد میں محکمانہ انکوائری یا تفتیش کے دوران دیکھی جا سکے گی۔اس نظام کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کیمروں سے حاصل ہونے والا ڈیٹا سیف سٹی کے مرکزی نظام سے منسلک ہونے کی صورت میں متعلقہ افسران کو واقعات کی ڈیجیٹل نگرانی اور ریکارڈ تک رسائی کا بہتر طریقہ میسر آئے گا۔تاہم ماہرین کے مطابق باڈی کیمرے صرف اسی صورت میں پولیسنگ پر مو¿ثر اثر ڈال سکتے ہیں جب ہر اہلکار کیلئے کیمرہ آن رکھنے کے واضح قواعد، ریکارڈ محفوظ رکھنے کا شفاف طریقہ، ویڈیو تک رسائی کا باقاعدہ پروٹوکول اور خلاف ورزی کی صورت میں محکمانہ کارروائی بھی یقینی بنائی جائے۔یوں پنجاب پولیس کا 30 ہزار باڈی کیمروں کا منصوبہ لاہور سے شروع ہونے کے باوجود بنیادی طور پر صوبہ بھر کی پولیسنگ کو ڈیجیٹل نگرانی، شواہد اور جوابدہی کے نظام سے جوڑنے کا منصوبہ ہے،تازہ ترین اعداد کے مطابق خبر میں 30 ہزار باڈی کیمرے لکھنا زیادہ درست ہے؛ 17,812 کی تعداد ابتدائی منظوری تھی، جسے بعد میں بڑھایا گیا۔