نیویارک (مشرق نیوز) وزن کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج کیلئے استعمال ہونے والی جی ایل پی-1 ادویات کے استعمال سے جسم میں اہم غذائی اجزا کی کمی کا خدشہ سامنے آیا ہے جو مریضوں کی مجموعی صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق امریکہ میں تقریباً 3 کروڑ افراد وزن کم کرنے اور ذیابیطس پر قابو پانے کیلئے یہ ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ ان ادویات کے انجکشن بھوک کم کرنے میں مدد دیتے ہیں جس کے نتیجے میں بہت سے افراد نمایاں وزن کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تاہم انکے استعمال کے ساتھ غذائیت سے متعلق مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ہارورڈ ٹی ایچ چین سکول آف پبلک ہیلتھ اور یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین کی جانب سے متعدد مطالعات کے جائزے میں بتایا گیا کہ جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد میں وٹامن بی 12، پروٹین اور فائبر کی کمی کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق وٹامن بی 12 اعصابی نظام کی صحت برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے۔ پروٹین پٹھوں اور جسمانی اعضا کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ فائبر نظام ہاضمہ کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ محققین نے خبردار کیا کہ ان ادویات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر علاج کے ساتھ مناسب غذائیت کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
انکے مطابق لاکھوں مریضوں کو جی ایل پی-1 ادویات تجویز کی جا رہی ہیں اسلئے علاج کے دوران غذائی ضروریات پر توجہ دینا اب فوری اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ دوسری جانب اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق امریکہ میں تقریباً ایک کروڑ افراد وٹامن بی 12 کی مطلوبہ مقدار حاصل نہیں کر رہے۔
ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی خوراک میں مناسب غذائی اجزا شامل رکھنے پر توجہ دیں اور غذائی کمی کے خدشے کی صورت میں طبی ماہر سے مشورہ کریں۔
وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال سے غذائی اجزا کی کمی کا خدشہ


















