مال،حصہ ملتا رہے تو ریاست ماں ورنہ تھوک دو، ریاست مخالف بیانات قبول نہیں،وفاقی وزرا

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)قومی اسمبلی ،سینٹ میں فضل الرحمن کے بیان پر گرما گرمی،محسن نقوی، کامران مرتضیٰ ،عابد شیر علی کے درمیان تلخ کلامی،وفاقی وزرا نے ریاست مخالف بیانات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا مال،حصہ ملتا رہے تو ریاست ماں ورنہ تھوک دو،جے یوآئی نے لائن کراس کرلی اب جواب ملے گا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہافیلڈ مارشل تہران میں صلح کرانے گئے، کوئی دفاعی معاہدہ ہورہانہ میری موجودگی ضروری تھی،سید عاصم منیر نے ایک جنگ رکوائی ، یمن کا تنازع بگڑ سکتا تھا، بین الاقوامی سطح پر پاکستان ،فیلڈ مارشل کے کردار کا اعتراف کرنا بنتا ہے، فیلڈ مارشل کا کردار امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے، آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں مثبت نتائج سامنے آئیں گے،خواجہ آصف نے کہاآپ مجھے شرم ، حیا کرنے کا طعنہ دیتے ہیں، مولانا آپ بھی کچھ حیا ،شرم کریں، 40 سال کن کن عہدوں کے مزے لیتے رہے ہیں، بتائیں 10 سال کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بن کر کیا خدمات سرانجام دیں ،آپ کا ماضی تضاد سے بھرا ، کوئی آب زم زم سے دھلا ہوا نہیں ،مولانا نے افغانستان کا دورہ کیوں کیا ؟ اور وہاں جانے کی آفر کیوں کی؟کیا آپ وزیر خارجہ تھے؟ دورے کا مقصد اپنی سیاست کو آگے بڑھانا تھا،تہران میں سعودی وزیر دفاع ،ترک انٹیلی جنس چیف آئے تھے، وزیر دفاع نہیں۔

وزیر دفاع نے کہافضل الرحمن کاملکی سیاست میں اہم مقام ،احترام کیا جاتا ہے، اعتراضات بھی سیاست کا حصہ ہیں، پیپلز پارٹی کےساتھ بہت سے اختلافات رہے ، اختلافات پس پشت ڈال کر کامیابیاں حاصل کیں، اعتراف کیا جانا چاہئے،ماضی کو بھلا کر مخالفین پر حملہ کرتے ہیں تو کم از کم اپنا ماضی بھی دیکھ لینا چاہئے، پی ٹی آئی والے سیاسی یتیم ہوئے تو اپنے آپ کو مولانا کی چھتر چھایا تلے کر لیا ،سیاست ،مذہب کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا،لکھ کر دینے کو تیار ہوںاگر کے پی حکومت میں حصہ دے دیتے تو ایسی تقریر نہ کرتے،حصہ مل جائے تو خاموش، حصہ نہ ملے تو پھر شور شروع کر دیا جاتا ہے۔

ادھر سینٹ اجلاس میں محسن نقوی ،کامران مرتضیٰ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، محسن نقوی نے کامران مرتضیٰ کے احتجاج پر کہا آپ کو میری بات سننا پڑے گی، تنقید کرتے ہیں تو جواب سننے کی ہمت بھی پیدا کریں جب تک ریاست سے فائدے ملتے ہیں، تب تک ریاست اچھی ،حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوکنا مناسب نہیں، کامران مرتضیٰ نے جواباً کہا زبان سنبھال کر استعمال کریں،دوران اجلاس سینیٹر عابد شیر علی بھی غصے میں آگئے اور کامران مرتضیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کو شرم آنی چاہیے، ماں کو گالیاں دیتے ہیں۔

عابد شیر علی ،جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، صورت حال کو قابو میں رکھنے کےلئے وزیر مملکت طلال چودھری نے عابد شیر علی کو بٹھا دیا۔

محسن نقوی نے احتجاج کرنےوالے اراکین سے کہا اب ہمت کریں اور جواب سنیں،فضل الرحمن کی بہت عزت کرتا تھا، ریاست مخالف باتیں کرنے کے بعد میرے دل میں کوئی عزت نہیں رہی ان کےلئے ریاست تب تک ماں ہوتی جب تک مال ملے، حکومت میں حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوک دواب آپ کو ریاست میں نوکری نہیں ملے گی، لائن کراس کریں گے تو ہر صورت جواب ملے گا، کہتے تھے کے پی میں گورنرراج لگواکرجان چھڑائیں ،بیرسٹر علی ظفر سے پوچھ لیںاب ریاست سے پیسے یا ٹکٹیں نہیں ملیں گی،مشیر وزیراعظم رانا ثنا نے کہا فضل الرحمن، مولانا عطا الرحمن ،سینیٹر کامران مرتضیٰ کا احترام ، ریاست ماں کا درجہ رکھتی ،نازیبا الفاظ قابل مذمت ہیں، فضل الرحمن کے پے در پے بیانات سے قوم کو تکلیف پہنچی،ذاتی انا کو اجتماعی انا اور مفاد میں نہیں لے کر جانا چاہیے،پی ٹی آئی عدالت سے ریلیف حاصل کرے۔