جیلوں میں چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام برقرار رکھنا ضروری ہے : شوکت فیروز ملک

لاہور (مرزا ندیم بیگ) ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز جیل خانہ جات پنجاب شوکت فیروز ملک، جو آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کی امریکہ روانگی کے بعد قائم مقام آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کی اہم ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں، نے کہا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کو علاج معالجے، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ انتظامی امور کی موثر نگرانی اور ملازمین کے مسائل کا حل محکمہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ جیلوں میں چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ قیدیوں کی فلاح و بہبود اور محکمانہ نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے۔شوکت فیروز ملک کا محکمہ جیل خانہ جات میں آنے سے پہلے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے کا وسیع تجربہ ہے۔ انہوں نے عملی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز پنجاب ایشین ڈویلپمنٹ بینک میں بطور کمیونٹی ڈویلپمنٹ آفیسر کیا، بعدازاں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوئے اور بطور لیکچرر خدمات انجام دیں۔ تدریسی شعبے کے بعد سوشل ویلفیئر آفیسر کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیے۔ سال 2001ء میں بطور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ جیل محکمہ جیل خانہ جات میں شمولیت اختیار کی۔ مختلف عہدوں پر خدمات انجام دینے کے بعد اس وقت ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز کی اہم ذمہ داری پر تعینات ہیں، جبکہ قائم مقام آئی جی کی حیثیت سے بھی محکمہ کے انتظامی امور کی نگرانی کر رہے ہیں۔قائم مقام آئی جی شوکت فیروز ملک کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کو دستیاب سہولیات، ان کی فلاح و بہبود اور انتظامی معاملات کی باقاعدگی سے نگرانی ہونی چاہیے۔ اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ محکمہ کے مختلف شعبوں میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام مو¿ثر بنایا جائے اور جہاں بہتری کی ضرورت ہو وہاں مناسب اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق جیل انتظامیہ کی ذمہ داری صرف نظم و ضبط برقرار رکھنا نہیں بلکہ قیدیوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کی اصلاح و بحالی کیلئے بھی عملی اقدامات کرنا ہے۔محکمہ جیل خانہ جات کے ملازمین کے مسائل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے فیصلوں میں ملازمین کے گھریلو حالات، خاندانی ذمہ داریوں اور آبائی شہر سے فاصلے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اگر کسی ملازم کو اس کے ہوم ٹاو¿ن میں تعینات کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم اسے آبائی شہر سے بہت زیادہ دور تعینات کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے تاکہ وہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ملازمین کیلئے آسانیاں پیدا کرنا اور ان کے جائز مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے حل کیلئے مناسب اقدامات کرنا ہے۔شوکت فیروز ملک نے واضح کیا کہ ملازمین کو سہولیات اور محکمانہ تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ان پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کو فرض سمجھ کر انجام دیں۔ محکمانہ ذمہ داریوں میں کسی قسم کی کوتاہی، غفلت یا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بہتر انتظامی نظام اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب افسران اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔جیلوں میں قیدیوں کے علاج معالجے اور ادویات کی فراہمی کے حوالے سے قائم مقام آئی جی نے بتایا کہ معمولی بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کے علاج کیلئے جیلوں میں ہسپتال اور ادویات کی سہولتیں موجود ہیں۔ بیمار قیدیوں کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے اور ان کی ضرورت کے مطابق ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ روزانہ طبی معائنے اور ادویات حاصل کرنے والے قیدیوں کی تعداد مقرر کرنا مشکل ہے، تاہم جیل میں موجود جو بھی قیدی بیماری کی شکایت کرتا ہے، اس کا معائنہ کرکے طبی ضرورت کے مطابق علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے،قائم مقام آئی جی نے بتایا کہ ماضی میں جیلوں میں ادویات کی خریداری اور فراہمی کا نظام براہ راست محکمہ جیل خانہ جات کے پاس تھا اور اس مقصد کیلئے باقاعدہ بجٹ بھی مختص کیا جاتا تھا، جس کے تحت مختلف اقسام کی ادویات خریدی جاتی تھیں۔ تاہم اب ادویات کی فراہمی کے اختیارات محکمہ پرائمری اینڈ پاپولیشن ویلفیئر کے پاس ہیں، جو ضرورت کے مطابق جیلوں کو ضروری ادویات فراہم کرتا ہے۔ قیدیوں کے بہتر طبی معائنے کیلئے ہر ہفتے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز بھی جیلوں کا دورہ کرتے ہیں اور مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں۔قائم مقام آئی جی کے مطابق اگر کسی قیدی کی طبیعت زیادہ خراب ہو اور اسے جیل سے باہر کسی ہسپتال میں داخل کروانے کی ضرورت پیش آئے تو متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی مکمل کرکے اسے بیرونی ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ایسے قیدی بھی بیرونی ہسپتالوں میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں جنہیں بظاہر کوئی سنگین طبی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ اس لیے ہر قیدی کی طبی حالت اور حقیقی ضرورت کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اسے جیل ہسپتال میں علاج فراہم کیا جائے یا بیرونی ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے۔اہل خانہ سے ملاقاتوں کے حوالے سے شوکت فیروز ملک نے بتایا کہ قیدیوں کی اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کیلئے باقاعدہ شیڈول مقرر ہے اور اسی شیڈول کے مطابق ملاقاتیں کروائی جاتی ہیں۔ ملاقاتوں کے نظام کو قواعد و ضوابط کے تحت چلایا جاتا ہے تاکہ قیدیوں کو اپنے اہل خانہ سے رابطے کی سہولت دستیاب رہے اور جیل کا انتظامی نظم بھی برقرار رکھا جا سکے۔قائم مقام آئی جی نے مزید کہا کہ جیلوں میں طبی سہولیات، انتظامی معاملات اور قیدیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ موجودہ نظام میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ تاہم جیلوں میں علاج معالجے کے حوالے سے مستقل ادویات استعمال کرنے والے مریضوں کی ضروریات، اہل خانہ کی جانب سے مخصوص ادویات فراہم کرنے کی درخواستوں پر فیصلوں اور علاج میں مبینہ تاخیر کی شکایات کے ازالے کا طریقہ کار بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔محکمہ جیل خانہ جات کے سامنے یہ امر بھی اہم ہے کہ بیمار قیدیوں کی شکایات کے فوری اندراج، طبی معائنے، ادویات کی دستیابی اور علاج معالجے میں تاخیر کی صورت میں جواب دہی کا مو¿ثر نظام موجود ہو۔ اس سلسلے میں ایک واضح شکایتی طریقہ کار اور اس پر عمل درآمد کی تفصیلات سامنے آنے سے نہ صرف قیدیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ جیلوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے نظام پر عوامی اعتماد بھی مزید مستحکم ہو سکے گا۔