ڈھاکہ:(مشرق نیوز) بنگلہ دیش میں عام انتخابات کیساتھ قومی ریفرنڈم، 67 فیصد ووٹرز کا اصلاحات کے حق میں ووٹ، الیکشن نتائج میں بی این پی آگے، زبردست ٹرن آﺅٹ،پولنگ سٹیشن کے باہر لوگوں کی طویل قطاریں،ہنگامہ آرائی،دستی بم حملہ،بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما محب الزمان جاں بحق،متعددافراد زخمی ہوگئے۔
بنگلہ دیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کےلئے ملک بھر کے 300 میں سے 299 حلقوں کے42 ہزار 659 پولنگ سٹیشنز پر شفاف بیلٹ بکس کے ذریعے صبح ساڑھے 7 بجے شروع ہونےوالی ووٹنگ بغیر کسی وقفے کے جاری رہی،12کروڑ سے زائد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا،ایک حلقے میں جماعت اسلامی امیدوار کے انتقال کے باعث انتخاب ملتوی کرنا پڑا۔
بنگلہ دیش نیشنل پارٹی،جماعت اسلامی میں گھمسان کارن ہے ،مجموعی طور پر 51 سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا،حکومت بنانے کےلئے 300 میں سے 151 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے،ملک بھر میں پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ،غیر حتمی وغیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی آگے،جماعت اسلامی دوسرے نمبر ہے۔
ادھر ضلع گوپال گنج کے پولنگ سٹیشن کے قریب دیسی ساختہ بم دھماکے میں3افراد زخمی ہو گئے،شہر خولنا میں ہنگامہ آرائی کے دوران بی این پی (بنگلہ دیش نیشنل پارٹی) کے رہنما محب الزمان کوچی سر پر گہری چوٹ لگنے کے باعث چل بسے،غیر سرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق 67 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق،33 فیصد ووٹرز نے خلاف ووٹ دیا،بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے جواب میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا، ریفرنڈم سے ملکی مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائےگا۔
دریں اثنا بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے کہا نئی تاریخ رقم،ملک بھر میں ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے کو ملی،پولنگ سٹیشنوں پر قبضے ،بیلٹ باکس چھیننے کی تاریخ کو بھلا دیا،ووٹنگ میں خاص طور پر خواتین ،نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد کاحصہ لینا الیکشن کمیشن پراعتماد کا مظہر ہے،شدید دھند کے باوجود دیہی علاقوں میں صبح سویرے ہی پولنگ سٹیشنوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں،مرکزی دھارے کے میڈیا سے اپیل ہے درست معلومات کی فراہمی میں تعاون کرے۔
ناصر الدین نے ووٹنگ کے عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا بنگلہ دیش جمہوریت کی ٹرین پر سوار ہو،جلد منزل تک پہنچ جائے گا،درجنوں بین الاقوامی انتخابی مبصرین ،واچ ڈاگ تنظیموں نے انتخابی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا، حکام کے مطابق اب کی بار ووٹوں کی گنتی میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ سفید رنگ کے پارلیمانی بیلٹ پیپر کےساتھ جولائی کے قومی چارٹر ریفرنڈم کےلئے گلابی بیلٹ پیپر شامل اورسیاسی جماعتوں ،امیدواروں کی تعداد بھی زیادہ ہے۔
مزید برآں اثنا بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر یونس نے پرامن، منظم ، پرجوش ماحول میں ووٹنگ مکمل ہونے پر قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاالیکشن کمیشن، قانون نافذ کرنےوالے اداروں، مسلح افواج، انتظامیہ، مبصرین، میڈیا نمائندگان اور ووٹنگ کے عمل میں شامل تمام افسروںو عملہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں،جمہوری عمل کا کامیابی سے مکمل ہونا بڑی فتح ہے،سیاسی جماعتیں،امیدوارحتمی نتائج کے اعلان کے بعد بھی جمہوری شائستگی، برداشت ،باہمی احترام کو برقرار رکھیں،اختلاف رائے اپنی جگہ موجود رہے گا لیکن قومی مفاد میں متحد رہنا ہوگا۔
بنگلہ دیش میں عام انتخابات کیساتھ قومی ریفرنڈم،الیکشن نتائج میں بی این پی آگے


















