اسلام آباد(بیورو رپورٹ) نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی) نے اپنا چھ نکاتی اصلاحاتی پروگرام مکمل کر لیا ہے جس کے تحت مختلف انقلابی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ کمپنی کو پاکستان کے تیزی سے بدلتے ہوئے پاور سیکٹر کے تقاضوں کے مطابق مزید موثر، شفاف اور جوابدہ ادارہ بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کو اسلام آباد میں اصلاحاتی پروگرام کے بارے میں ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں کمپنی میں کی جانے والی اصلاحات اور اس حوالے سے ہونے والی اہم پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ کے دوران منیجنگ ڈائریکٹر (این جی سی) انجینئر الطاف حسین ملک نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ جنوری 2026 میں شروع ہونے والا یہ اصلاحاتی عمل مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور کمپنی کا نیا آپریٹنگ ماڈل یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو جائیگا۔ بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے این جی سی مینجمنٹ کی اصلاحاتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس عمل کیلئے حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات پاکستان کے پاور سیکٹر میں درکار ادارہ جاتی تبدیلی کی بہترین مثال ہیں۔ کمپنی کی قیادت اور ٹیم کی جانب سے کارکردگی، شفافیت اور احتساب پر توجہ قابل تحسین ہے۔ حکومت قومی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کیلئے ایسے اقدامات کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔ اس موقع پر ایم ڈی این جی سی انجینئر الطاف حسین ملک نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ری سٹرکچرنگ کے تحت چھ اہم سٹرٹیجک تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں جن میں منصوبوں کی تیز تکمیل کیلئے متحدہ آپریشنل قیادت، شفافیت کے فروغ کیلئے مضبوط مالیاتی نظم و نسق، بہتر رابطہ کاری کیلئے ریگولیٹری اور سٹیک ہولڈر ٹیموں کا قیام، ادارے میں تحفظ کو اولین ترجیح بنانے کیلئے آزاد حفاظتی نگرانی، تاخیر اور غیر ضروری پیچیدگیوں کے خاتمے کیلئے اندرونی طریقہ کار میں بہتری، جدید ٹیکنالوجی اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے استعمال کیلئے ڈیجیٹل نظام کی ترقی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اصلاحاتی عمل ایک ایسے ادارے کی تشکیل کیلئے ہے جو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ، تیز رفتار اور جوابدہ ہو۔ وزارت توانائی کی مسلسل حمایت اور ادارے کی ٹیم کی محنت کے ساتھ ایک مضبوط اور زیادہ موثر ٹرانسمیشن نظام کی بنیاد رکھی جا رہی ہے جو پاکستان کو قابل اعتماد بجلی کی ترسیل فراہم کرے گا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ این جی سی کی تنظیم نو ان دیرینہ ساختی مسائل کے حل کیلئے کی جا رہی ہے جو 1998 میں این ٹی ڈی سی کے قیام کے بعد مختلف شکلوں میں موجود رہے ہیں۔ اگرچہ کمپنی وقت کے ساتھ ایک خصوصی ٹرانسمیشن سروس فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر ترقی کر چکی ہے تاہم اس کا انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک سابقہ این ٹی ڈی سی ماڈل سے جڑا رہا جس کے باعث ذمہ داریوں کی تقسیم، کام کے تداخل اور رابطہ کاری میں مشکلات پیدا ہوتی رہی ہیں۔ وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ جنوری 2026 میں اصلاحاتی عمل کے آغاز کے بعد کمپنی کے اہم عہدوں پر تقرریاں مکمل کر لی گئی ہیں، کارکردگی کے پیمانے متعین کر دیے گئے ہیں جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے نظام بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ حال ہی میں تمام ملازمین کے ساتھ ایک ٹاو¿ن ہال اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں اصلاحاتی عمل اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔ کمپنی کا نیا آپریٹنگ ماڈل یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا جبکہ مکمل ڈیجیٹل اور آپریشنل استحکام دسمبر 2026 تک حاصل ہونے کی توقع ہے۔ نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ ملک کے پاور سیکٹر میں ایک اہم ٹرانسمیشن اور میٹرنگ سروس فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ یہ ادارہ واپڈا اور این ٹی ڈی سی سے ارتقا پذیر ہوا ہے اور قومی گرڈ کے ذریعے ملک بھر میں بجلی کی محفوظ، موثر اور قابل اعتماد ترسیل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بریفنگ کے بعد وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ایم ڈی انجینئر الطاف حسین ملک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ این جی سی پاور سیکٹر کا ایک انتہائی اہم ادارہ ہے اور اس کی تنظیم نو وقت کی اہم ضرورت تھی۔ واضح رہے کہ یہ اصلاحات منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر الطاف حسین ملک کی قیادت میں جاری ہیں جنہوں نے نومبر 2025 میں عہدہ سنبھالا اور یوٹیلیٹی مینجمنٹ کے شعبے میں بین الاقوامی تجربہ رکھتے ہیں۔
این جی سی پاور سیکٹر کا اہم ادارہ، اصلاحات وقت کی اہم ضرورت تھیں: وفاقی وزیر توانائی



















