لاہور (مشرق نیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ آئین سے متصادم ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو جماعت اسلامی نے چیلنج کیا ہے، پنجاب حکومت کا یہ ایکٹ آئین سے متصادم ہے، نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ صوبوں کی بات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا ایکٹ لیکر آئی ہے جس میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوتے، اس ایکٹ کے مطابق عوام براہ راست اپنا چیئرمین منتخب نہیں کرسکتے، یہ پنجاب حکومت کا غیر جمہوری اقدام ہے، یو سی کا چیئرمین پندرہ بیس ہزار آبادی کا نمائندہ ہوتا ہے، چیئرمین منتخب کرنے کا اختیار اس یوسی کی عوام کے پاس نہ ہونا قابل افسوس ہے، یہ پیسوں کی منڈیاں لگانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) جیسی پارٹیاں آبائی پارٹیوں کی طرح چلتی ہیں، انکے گھر پیدا ہونے والا بچہ بھی اس پارٹی کا مالک ہوتا ہے، یہ اپنی پارٹی کے بندے کو آگے نہیں آنے دیتے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ہے، پاکستان میں 49 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے، یہ عوام کو دیگر مسائل میں مبتلا کرکے اصل مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔
پنجاب میں مقامی حکومتوں کا ایکٹ آئین کیخلاف ہے: امیر جماعت اسلامی



















