واشنگٹن، بیجنگ، ماسکو، لندن، تہران، تل ابیب، دوحہ (بیورو رپورٹ+ مشرق نیوز) ایران نے واضح کر دیا امریکہ سے مذاکرات کےلئے وفد اسلام آباد جاسکتا ہے، آئندہ ہونےوالے مذاکرات مکمل جنگ بندی کے حصول کےلئے ہوں گے،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا پاکستان کے ذریعے امریکہ کےساتھ بھی پیغامات کا تبادلہ ہو رہا جو سفارتی رابطوں کا حصہ ہے، ایران کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے مسلسل پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور ایران کا موقف اس معاملے پر واضح ہے، پیغامات کے تبادلے کے دوران قوی امکان ہے پاکستان کا وفد ایران کا دورہ کرے گا تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے،روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہااپنے رہنماوں کے قتل کا ذمے دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرائیں گے، امریکہ و اسرائیل نے جو کچھ کیا ہے وہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کےخلاف جرم ہے، امریکہ و اسرائیل کے حملے جنگی جرم ہیں جو انسانیت کےخلاف بھی جرم ہیں،ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا مذاکرات کیلئے ہمیشہ تیار ہیں مگر مرضی مسلط کرنے کی کوشش ناکام ہوگی، سرنڈر پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، ایران جنگ نہیں امن چاہتا ہے، حملے کی صورت میں سخت جواب دیں گے، ایران پر حملوں کا جواز کس قانون میں ہے، ہم نے کسی ملک کےخلاف جارحیت نہیں کی،ہلال احمر سوسائٹی کے دورے کے دوران گفتگو میں مسعود پزشکیان نے کہا ایران نے ہمیشہ دیگر ممالک کے ساتھ مکالمے اور تعمیری روابط پر زور دیا ہے، ایران کو دہشت گرد کہنے والے خود دہشت گرد ہیں جو جب چاہیں جہاں چاہیں کسی کو بھی قتل کر دیتے ہیں، ایران کی شہری تنصیبات، سکولوں اور ہسپتالوں پر حملوں کا بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کے تحت کوئی جواز نہیں،حملے شرمناک ہیں اور دنیا کو یہ دیکھنا چاہیے،ادھر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پریس بریفنگ میں کہا ہے ایران سمجھداری دکھائے، غلط فیصلہ کیا تو ہم دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں،ایرانی بحریہ کی امریکی ناکہ بندی جب تک ضروری سمجھیں گے، جاری رہے گی، آبنائے ہرمز میں آنے اور جانے والی بحری آمدورفت پر ہمیں کنٹرول حاصل ہے،امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا امریکی فوج ایک لمحے کے نوٹس پر ایران پر دوبارہ حملے شروع کرسکتی ہے، آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی تمام جہازوں کیلئے ہے جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہوتے یا نکلتے ہیں، ناکہ بندی کا نفاذ ایران کی علاقائی سمندری حدود اور بین الاقوامی پانیوں دونوں میں ہوتا ہے، ناکہ بندی تمام جہازوں کےلئے ہے، ایران کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنےوالے کسی بھی جہاز کا تعاقب کریں گے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران سے جنگ بندی میں توسیع پر غور نہیں کر رہے، شاید ضرورت ہی نہ پڑے،امریکی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاآنے والے دنوں میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ملے گا، امریکہ کی ترجیح معاہدہ کرنا ہے، ایران کے حملوں سے خلیجی ملکوں کو شدید دھچکا پہنچا، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شدید حیران ہوئے جب ایران نے حملہ کیا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دیدی، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سمندری سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا،قطری امیری دیوان کے بیان کے مطابق امیر قطر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی جس میں خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر بات چیت کی گئی خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے،گفتگو میں بین الاقوامی سمندری سلامتی، توانائی کی منڈیوں کے استحکام اور عالمی سپلائی چینز کے معاملات کو خصوصی اہمیت دی گئی جبکہ آبنائے ہرمز میں متوازی ناکہ بندیوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال بھی زیر بحث آئی،امریکی سینٹ میں ریپبلکن اراکین کی اکثریت نے جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد کو مسترد کر دیا، صرف ایک ریپبلکن سینیٹر نے حق میں ووٹ دیا،سینٹ میں 52 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کو مسترد کر دیا گیا جس کا مقصد کانگریس کی منظوری تک امریکہ اور اسرائیل کی ایران کےخلاف جنگ کو روکنا تھا، اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایران کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے اگر امریکہ کےساتھ جاری جنگ بندی معاہدے پر اتفاق نہیں کیا تو اسرائیل پہلے سے زیادہ تکلیف دہ حملے کرے گا، ایران اس وقت تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ بہتر مستقبل کی طرف بڑھنا چاہتا ہے یا تنہائی اور تباہی کے کھائی میں جا گرے،چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے عالمی برادری آبنائے ہرمز کی بحالی چاہتی ہے، ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے،چین پر ممالک کی خودمختاری میں مداخلت کےخلاف مو¿قف پر یقین رکھتا ہے اور تنازعات کے سفارتی حل اور مذاکرات پر زور دیتا ہے،روس نے کہا ہے ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کے شکر گزار ہیں،ترجمان کریملن نے کہا ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کے بہت شکر گزار ہیں، مذاکرات کیلئے ماحول اور فضا سازگار بنانے میں پاکستانی کردار کو سراہتے ہیں، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہمیں امید ہے آخرکار یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے، خطے میں امن کیلئے ہرقسم کے تعاون کیلئے تیار ہیں،برطانوی وزیر خزانہ ریچل ریوز نے کہا ہے ایران کےساتھ سفارتی مذاکرات کا خاتمہ اور فوجی تصادم کی شروعات امریکہ کی غلطی ہے،امریکی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ریچل ریوز نے کہا اس وقت بہترین معاشی پالیسی، نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا کےلئے کشیدگی میں کمی ہے۔
مذاکرات صرف پاکستان میں ہونگے: ایران ، ڈیل نہ ہوئی تو دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں: امریکہ



















