اسلام آباد:(بیورورپورٹ)سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا کے ملازمین کی سینیارٹی کیس میں درخواست منظور کرلی۔
جسٹس علی مظہر نے سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں حکم دیاملازمین کی سینیارٹی اصل حالت میں بحال کی جائے ،ریگولرائزیشن 7 مارچ 2018 سے موثر ہوگی ،گزٹ نوٹیفکیشن کی تاخیر ملازمین کے حق پر اثرانداز نہیں ہوسکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا انتظامی تاخیر کی سزا ملازمین کو نہیں دی جاسکتی اور ریاست اپنی انتظامی غلطی کا فائدہ نہیں اٹھا سکتی، انتظامی نااہلی سے ملازم کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جاسکتا ،ریگولرائزیشن کی گزٹ اشاعت میں تاخیر محض انتظامی کوتاہی تھی، ملازمین انتظامی تاخیر کے باعث اپنے قانونی حق سے محروم نہیں ہوسکتے، گزٹ میں تاخیر ریگولرائزیشن کو غیر موثر نہیں بناتی،سپریم کورٹ نے کہانوٹیفکیشن اشاعت کی تاریخ کو سینیارٹی کا واحد معیار نہیں بنایا جاسکتا، ملازمین کو کے پی ایمپلائز ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 کے تحت ریگولر کیا گیا۔
سینیارٹی کیس ،انتظامی نااہلی پرملازم کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جاسکتا ،سپریم کورٹ

















