لاہور کے بڑے سرکاری ہسپتال ڈاکٹرز کی شدید کمی کا شکار، مریضوں کا بوجھ بڑھ گیا

لاہور (اپنے رپورٹر سے) صوبائی دارالحکومت لاہور کے بڑے سرکاری تدریسی ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں ڈاکٹرز کی دستیابی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شہر کے بڑے سرکاری مراکز صحت میں روزانہ ہزاروں مریض او پی ڈی، ایمرجنسی، آپریشن تھیٹرز اور مختلف تشخیصی شعبوں سے رجوع کرتے ہیں تاہم متعدد شعبوں میں منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں عملی طور پر تعینات ڈاکٹرز کی تعداد کم ہونے کے باعث موجودہ طبی عملے پر کام کا غیر معمولی دباو¿ بڑھ گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور جنرل ہسپتال سمیت شہر کے بڑے تدریسی ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے مختلف کیڈر کی قابل ذکر تعداد میں اسامیاں منظور شدہ ہیں، تاہم کئی عہدوں پر مطلوبہ تعداد میں تعیناتیاں نہ ہونے کے باعث شعبہ جات کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ ہسپتال کے بعض شعبوں میں منظور شدہ آسامیوں اور عملی طور پر کام کرنے والے ڈاکٹرز کی تعداد میں واضح فرق موجود ہے، جس کے باعث ایک ڈاکٹر کو معمول سے کہیں زیادہ مریض دیکھنا پڑتے ہیں۔ خاص طور پر او پی ڈی اور ایمرجنسی میں مریضوں کا مسلسل بڑھتا ہوا رش طبی عملے کیلئے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے مقابلے میں ڈاکٹرز کی تعداد میں اسی تناسب سے اضافہ نہ ہونے کے باعث نہ صرف طبی عملے پر کام کا بوجھ بڑھ رہا ہے بلکہ مریضوں کو بھی معائنہ، تشخیص اور علاج کیلئے طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی کا سب سے زیادہ اثر ان شعبوں پر پڑتا ہے جہاں مریضوں کا براہ راست دباو¿ سب سے زیادہ ہے۔ میڈیسن، جنرل سرجری، گائنی و آبسٹیٹرکس، پیڈیاٹرکس، آرتھوپیڈکس، اینستھیزیا، ایمرجنسی، نیورو سرجری اور کارڈیالوجی ایسے شعبے ہیں جہاں مریضوں کا مسلسل رش روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز 24 گھنٹے جاری رہنے کے باعث ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کی مسلسل دستیابی ناگزیر ہے، تاہم کسی بھی شعبے میں منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں تعیناتیاں کم ہونے کی صورت میں ڈیوٹی روسٹر پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں ایک جانب ڈاکٹرز کو طویل اوقات کار میں خدمات انجام دینا پڑتی ہیں تو دوسری جانب مریضوں کو مطلوبہ وقت اور توجہ فراہم کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اینستھیزیا ایسا اہم شعبہ ہے جس کی کمی کا براہ راست اثر آپریشن تھیٹرز کی استعداد پر پڑ سکتا ہے۔ کسی بھی بڑے سرکاری ہسپتال میں آپریشنز کی تعداد بڑھانے کیلئے سرجنز کے ساتھ ساتھ اینستھیٹسٹس، نرسنگ اسٹاف اور دیگر معاون طبی عملے کی مناسب تعداد ضروری ہے۔ ڈاکٹرز کی کمی کی صورت میں آپریشن تھیٹرز کے شیڈول، ہنگامی آپریشنز اور دیگر پیچیدہ کیسز کو نمٹانے میں مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح ریڈیالوجی، پیتھالوجی اور دیگر تشخیصی شعبوں میں ماہر ڈاکٹرز کی مطلوبہ تعداد میں دستیابی مریضوں کی بروقت تشخیص کیلئے انتہائی اہم ہے۔ تشخیص میں تاخیر سے علاج کا عمل بھی متاثر ہونے کا امکان رہتا ہے۔لاہور کے سرکاری تدریسی ہسپتال صرف شہر کے شہریوں تک محدود نہیں بلکہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے آنے والے مریضوں کو بھی علاج فراہم کرتے ہیں۔ پیچیدہ اور سنگین نوعیت کے کیسز اکثر ضلعی اور تحصیل سطح کے مراکز سے ریفر ہو کر لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں پہنچتے ہیں جس سے پہلے ہی مصروف او پی ڈیز، ایمرجنسیز اور وارڈز پر مزید دباو¿ پڑتا ہے۔