لاہور(خبر نگار/ تصاویر: میاں شاہنواز) صوبے میں تجاوزات کے مستقل خاتمے کیلئے وزیراعلیٰ مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر گرینڈ آپریشنز تو جاری ہیں، مگر صوبے سے تجاوزات کے خاتمے کی حالت تو درکنار، صوبے کا سیاسی و انتظامی اعتبار سے سب سے اہم ضلع لاہور بھی تجاوزات سے پاک نہ ہو سکا۔ البتہ ماضی میں کئے جانے والے تجاوزات آپریشنز کی وجہ سے تجاوزات قائم کروانے کے ریٹ ضرور ڈبل ہو گئے ہیں۔ اسی تناظر میں میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے شالیمار زون میں واقع باغبانپورہ اور سنگھ پورہ بازاروں میں تجاوزات برقرار رکھنے کیلئے سہولت کاری فراہم کرنے کی غرض سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی بھتہ وصولیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق تجاوزات کے خاتمے پر مامور ریگولیشن ونگ کے ہی بعض اہلکار مبینہ طور پر ”منتھلی سسٹم“ چلا رہے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ باغبانپورہ بازار میں درجنوں ریڑھیوں سے مبینہ طور پر فی ریڑھی 300 روپے یومیہ وصول کیے جا رہے ہیں، جس سے ماہانہ وصولی تقریبا چار لاکھ روپے تک جا پہنچتی ہے اور اس رقم کی وصولی کیلئے انفورسمنٹ انسپکٹر شیراز کا نام سامنے آیا ہے۔ اسی طرح سنگھ پورہ سبزی منڈی کے باہر قائم تجاوزات میں ریڑھی بانوں سے مبینہ طور پر 400 روپے یومیہ کے حساب سے مجموعی طور پر لاکھوں روپے الگ سے رشوت اکٹھی کی جاتی ہے، جبکہ تجاوزات بدستور قائم ہیں۔ ذرائع کا الزام ہے کہ میٹروپولیٹن آفیسر ریگولیشن جوادالحسن گوندل کے قریبی سمجھے جانے والے افسر شہزاد رسول نے شالیمار زون سمیت متعدد زونز میں زونل آفیسر ریگولیشن کے اضافی چارج سنبھال رکھے ہیں اور مبینہ وصولیوں کیلئے اپنی گینگ بنا رکھی ہے، جس میں شیراز نامی اہلکار کو شالیمار زون میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر شروع کیے گئے تجاوزات آپریشن کا مقصد بازاروں کو کشادہ اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنا تھا مگر باغبانپورہ اور سنگھ پورہ میں تجاوزات کا بدستور قائم رہنا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر یہ تجاوزات غیرقانونی ہیں تو انہیں ختم کیوں نہیں کیا جا سکا۔ تاجروں اور ریڑھی بانوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف قانون سب کیلئے یکساں نافذ کیا جائے۔ دوسری جانب پنجاب حکومت کی جانب سے رشوت ستانی کے خاتمے کیلئے اپنائی گئی زیرو ٹالرنس پالیسی کے باوجود میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ریگولیشن ونگ سے متعلق سامنے آنے والی شکایات نے اندرونی نگرانی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ معاملے کی شفاف تحقیقات کیلئے مذکورہ بازاروں کی اچانک فزیکل ویری فکیشن، انفورسمنٹ ریکارڈ اور مبینہ وصولیوں کی جانچ ناگزیر قرار دی جا رہی ہے۔
شالیمار زون میں ایم سی ایل کی سہولت کاری، لاکھوں کی بھتہ وصولی


















