اسلام آباد: (بیورورپورٹ) اسلام آباد ہائیکورٹ ایف آئی اے کی جانب سے ازخود ایس او پیز بنانے پر سخت برہم،ہوائی اڈوں پر آف لوڈ کرنے کے اختیار پر معاونت طلب کرلی۔
جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دئیے ایس او پی قانون نہیں ہوتا ایسے تو ہر ادارہ قانون کی بجائے ایس او پیز پر کام شروع کردےگا،ایف آئی اے حکام نے کہا شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے اقدامات ایس او پیز کے تحت کیے جاتے ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دئیے ایس او پیز قانون نہیں ہوتے، عدالتوں کو قانون پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے،بنیادی حقوق کو ازخود ایس او پیز کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا،آپ یونیفارم پہنے ہوئے پاکستان کی ایجنسی لیکن بظاہر قانون کےخلاف کام کررہے ہیں، ہائیکورٹ نے سوال اٹھایا کیا ایف آئی اے کے پاس اختیار ہے کسی شہری کو اس بنیاد پر آف لوڈ کرے وہ بیرون ملک جاکر کوئی مخصوص کام کرے گا،ایس او پیز اتنے اہم ہیں تو متعلقہ قانون میں ترمیم کرائی جائے۔
بنیادی حقوق کو ازخود ایس او پیز سے ختم نہیں کیا جاسکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ



















