سعودیہ ،حوثی اختلافات بات چیت سے حل کریں،مدد کیلئے تیار ہیں،ایران


تہران،نیویارک:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کھولنے کی پھر مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہاہے سعودیہ ،حوثی اختلافات بات چیت سے حل کریں،مدد کیلئے تیار ہیں۔

صدر مسعود پزشکیان نے انٹرویو میں کہاامریکہ ،اسرائیل نے مسلم ممالک کی فضائی حدود سے ایران پر حملہ کیا پھر ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ،امریکہ کا منصوبہ مسلم ممالک کو آپس میں لڑوا کر خطے کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے،آبنائے ہرمز بند ہونے کا ذمہ دار امریکہ ،ایران کے راستے بند کیے جائیں گے تو آبنائے ہرمز بند کرنا فطری عمل ہے، آبنائے ہرمز تنازع کا حل طاقت نہیں بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

مسعود پزشکیان نے کہا بار بار حملوں، پابندیوں کے بعد امریکہ سے بات چیت ممکن نہیں ، پاکستان ،قطر ثالثی کر رہے اور ایران کے پیغامات امریکہ تک پہنچا رہے ہیں،خطے کی سلامتی علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ممکن ہے، خطے کو کسی چوکیدار یا بیرونی طاقت کی ضرورت نہیں ، امریکی پابندیوں ،اسرائیلی موقف کے باوجود ایران ثابت قدم رہےگا،امریکہ ایرانی شرائط تسلیم کرے تو 7 روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دیں گے،جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای طبی طور پر مکمل صحتمند ،زخم بھی ٹھیک ہو چکے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا امریکہ کو 7 روزہ منصوبہ پہنچادیا ،قبول کرلیا جائے تو آبنائے ہرمز کھولی جاسکتی ہے،7 روز کی مدت امریکہ کی جانب سے منصوبہ قبول کرنے کے وقت سے شروع ہوگی،ایران محفوظ ،پرامن بحری آمدورفت کےلئے پرعزم ہے، فوجی کارروائیوں، دھمکیوں، ناکہ بندی یا معاشی دباو کے ذریعے بحری سکیورٹی بحال نہیں کی جاسکتی،ایران دباو، دھمکی یا خوف زدہ کرنے کی کوشش قبول نہیں کرےگا۔