نیویارک: (بیورورپورٹ)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے جوہری بم کی بجائے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی چاہئے،امریکہ کےساتھ جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
جنرل اسمبلی میںخطاب کے آغاز پر ایرانی صدر نے شہید خامنہ ای ،امریکی حملے میں نشانہ بننے والے میناب سکول کے بچوں کی تصاویر دکھائیں، تقریر کے دوران امریکی نمائندوں نے واک آوٹ کیا۔
مسعود پزشکیان نے کہاامریکہ نے جنگ کے دوران معصوم خواتین ،بچوں کو نشانہ بنایا، سکولوں، ہسپتالوں ،شہری انفراسٹرکچر پر حملے ،صوبے لامرد میں بچوں پر کلسٹر بم برسائے گئے،ایران خود دہشتگردی کا نشانہ بنا،امریکہ ،اسرائیل نے ایرانی شہریوں پر بزدلانہ حملے کیے،عالمی قوانین کا خیال نہیں رکھا گیا۔
ایرانی صدر نے کہا ایران نے اپنا سر نہیں جھکایا،ملکی دفاع کےلئے کسی کی اجازت یا منظوری کی ضرورت نہیں،طاقتور ممالک ہی دنیا میں عدم استحکام وتباہی پیدا کر رہے ہیں، جبکہ ایران اپنے اور دوسرے ممالک کےلئے عدم تحفظ نہیں چاہتا، جنگ کے میدان میں امن حاصل نہیں ہوگا،ایران کو جوہری توانائی چاہیے، جوہری بم نہیں، پرامن جوہری ٹیکنالوجی ایران کی ترقی کا حصہ ہے، جوہری طاقت کے حق پر کوئی پابندی قبول نہیں کی جائے گی،اپنے ملک کےخلاف استعمال ہونیوالے ہتھیاروں کو آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دینگے۔
جوہری بم کی بجائے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی چاہئے،امریکہ کےساتھ جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالیں گے‘ایرانی صدر


















