اسلام آباد ،راولپنڈی،صوابی:(بیورورپورٹ)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے اپوزیشن رہنماوں کو مذاکرات کی ہدایات جاری کردیں۔
ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے اپوزیشن رہنماوں کو پیغام بھجوا یاحکومت مذاکرات کیلئے رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے،پہلی شرط بانی سے ملاقات ہونی چاہیے،بہنوں کی رہائی سے حکومت مثبت پیشرفت کا آغاز کرسکتی ہے، بانی سے ملاقات نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی،بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وزیراعظم سے ملاقات سے انکار کا سوچا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا بات نہ مانی گئی تو لانگ مارچ روکنے کا کوئی جواز نہیں، مذاکرات صرف پیشکش کی حد تک ہیں، کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا، ایک سال سے ملاقات بند ،ہمیشہ ریاست پاکستان کےساتھ کھڑے رہے ،نیک نیتی کے باوجود لیڈر سے نہیں ملنے دیا جارہا ، ایم این ایز، ایم پی ایز اٹھائے گئے، گرفتاریوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہانیک نیتی ،خلوص کےساتھ مذاکرات میں بیٹھے مگر حکومت نے فراغ دلی ،سنجیدگی نہیں دکھائی، کوئی غیر قانونی مطالبہ نہیں کیا، دہشتگردی پر موقف واضح، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہونا چاہیے،ایمرجنسی ،گورنر راج سے نفرتیں مزید بڑھیں گی،مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ کے پی پر ڈالنا بالکل غلط ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا مذاکرات کا اختیار اچکزئی ،علامہ راجہ ناصر عباس کے پاس ہے ،حکومت خلوص سے مذاکرات چاہتی ہے تورابطہ کرلے، ذاتی معالج تک رسائی قومی سلامتی کا معاملہ نہیں، لندن سے ڈاکٹر بلائیں گے لیکن 40 سال سے ذاتی ڈاکٹرز سے چیک اپ نہیں کرائیں گے، حکومت بتائے دہشتگردی کے خلاف کب ساتھ نہیں دیا؟ دہشتگردی کے خلاف آپریشن پر صوبے کی بات سننی پڑے گی۔
سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہاپی ٹی آئی ملکی ترقی و خوشحالی کےخلاف نہیں، ایک نکاتی ایجنڈا پاکستان جیتے اور ترقی کرے،سنگین تحفظات کے باوجود حکومت کےساتھ مذاکرات کےلئے تیار ہیں، ملک کی خاطر سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا،خیبرپختونخوا عوام کے امن مطالبے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،سیاسی قیدیوں کی رہائی ،آئین و قانون کی بالادستی ضروری ہے،پنجاب، سندھ ،خیبر پختونخوا میں پولیس قوانین میں فرق کیوں ہے؟ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
سینٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی ظفر نے کہا حکومت ،اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کی بنیادی وجہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ تسلیم نہ ہونا تھا، دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کیلئے پہلے لانگ مارچ ختم کرنے کی شرط قبول نہیں ، وزیراعظم بھی مذاکراتی ٹیم والا موقف ہی دہرا رہے ہیں،مذاکراتی ٹیم یا پی ٹی آئی کا کوئی رہنما اتنا بڑا فیصلہ خود نہیں کرسکتا،بانی سے ملاقات ،مشاورت کے بغیر فیصلے کرنا ممکن نہیں،حکومت پی ٹی آئی قیادت میں سے کسی کی بھی بانی سے ملاقات کرا دے ،بانی نے لانگ مارچ ختم کرنے کا کہا تو ضرور ختم کردیا جائےگا،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہر روز لانگ مارچ کی حکمت عملی تبدیل کرتے ہیں،لانگ مارچ نے آگے چلنا و بڑھنا ہے۔
حکومت مذاکرات کیلئے رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے،محمود اچکزئی کی ہدایات



















