پی ایچ اے، شہر میں درختوں کے تحفظ کے ضوابط پر عملدرآمد سوالیہ نشان، ڈیجیٹل ریکارڈ نامکمل ہونے کا انکشاف

لاہور(اپنے نمائندے سے) شہر میں درختوں کے تحفظ کے ضوابط پر عملدرآمد سوالیہ نشان، ڈیجیٹل ریکارڈ نامکمل ہونے کا انکشاف، ایک درخت کے بدلے 20 پودے لگانے کی پالیسی کا اعلان، ری گرین ایپ کا ڈیٹا منظرعام پر لانے کا مطالبہ۔ پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کی جانب سے درختوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ اور ایک درخت کی کٹائی کے بدلے 20 پودے لگانے کی پالیسی کے دعووں کے باوجود زمینی حقائق برعکس ہیں اور شہر کے تمام درختوں کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ تاحال مرتب نہیں ہو سکا ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے پبلک پارکس ،گرین بیلٹس اور گرین ایریا کے تحفظ اور ریگو لیٹڈ ایمر جنسی ٹرانسپلانٹیشن ریگو لیشنز 2026کے مطابق پی ایچ اے ایکٹ 2025 کے تحت نافذ کئے تھے۔ ضوابط کے تحت گرین بیلٹس کو کسی بھی تعمیراتی سرگرمی کیلئے استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہے، جب کہ پارکوں کا زیادہ سے زیادہ تین فیصد حصہ ہی کمرشل مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔نئے قانون کے تحت 36 انچ سے زائد تنے والے یا 30 سال سے زائد عمر کے درخت کو 'ہیریٹیج ٹری' قرار دیا گیا ہے۔ ایسے درختوں کو صرف شدید حفاظتی خطرے یا بیماری کی صورت میں ہی اور محکمہ جنگلات، ای پی اے اور ماہرین نباتات پر مشتمل ٹیکنیکل کمیٹی کی پیشگی منظوری کے بعد ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔پی ایچ اے حکام کے مطابق تمام ہیریٹیج درختوں کی جی پی ایس لوکیشن اور تصاویر کے ساتھ ڈیجیٹل رجسٹر تیار کیا جا رہا ہے اور Re-Green ایپ کے ذریعے جیو ٹیگنگ اور 100 فیصد مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے گی۔ پالیسی کے مطابق ناگزیر کٹائی کی صورت میں ایک درخت کے بدلے 20 مقامی اور ماحول دوست پودے لگانا اور تین سال تک ان کی دیکھ بھال لازمی ہوگی، جب کہ منتقل شدہ درخت مرنے کی صورت میں یہ تعداد 50 تک بڑھ جائے گی۔ دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے 27 فروری 2026 کو سموگ تدارک کیس میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے درختوں کی کٹائی پر فوری پابندی عائد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اس کے باوجود خلاف ورزیوں کا سلسلہ نہ رک سکا ماضی قریب میں کینال روڈ ڈاکٹر ہسپتال کے قریب درخت کی شاخ کاٹنے پر پی ایچ اے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت چار افسران کو معطل کرنا پڑا۔وزیر ہاوسنگ بلال یاسین کی زیر صدارت پنجاب ہاوسنگ اتھارٹی کے بورڈ اجلاس میں بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شجرکاری کا تحفظ اولین ترجیح ہوگا اور درخت کاٹنے سے قبل پی ایچ اے کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی ذرائع کے مطابق پی ایچ اے کے پاس ابھی تک شہر کے تمام درختوں کا مکمل ڈیٹا موجود نہیں۔