اسلام آباد:(بیورورپورٹ)وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے سہیل آفریدی مذاکراتی مسودے کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہاوزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر شروع کیے گئے مذاکرات کامیاب ہونے کی قوی امید ،تیار ہونےوالے چوتھے ڈرافٹ کی حتمی منظوری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو دینی تھی تاہم اطلاعات کے مطابق دستاویز کی منظوری کےلئے افغانستان سے احکامات لے رہے تھے،محمود اچکزئی کا موقف رہاعمران خان سے ملاقات کے بغیر کسی پیشرفت کا امکان نہیں، طارق فضل چودھری نے کہاملاقات کا ٹائم فریم اور متفقہ حل طے پا جاتا تو ملکی سیاسی حالات یکسر مختلف ہوتے،پی ٹی آئی نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا تو 40اراکین کسی صورت فیصلے کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنی نشستوں پر براجمان رہیں گے۔
دریں اثنا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہاخیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے ،امن کے قیام کےلئے ایمرجنسی جیسے اقدامات کیے گئے، دہشتگردی کےخلاف جنگ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گی،خیبر پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، صدارتی فرمان کے ذریعے گورنر راج ،ایمرجنسی لگائی گئی،گورنر کی سربراہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل کام کر رہی ہے، پی ٹی آئی سے مذاکرات میں کوشش تھی دہشتگردی کےخلاف ایک پیج پر آئیں، صوبائی سطح پر موثر تعاون کے بغیر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا عملاً ممکن نہیں تھا۔
وفاقی وزیر نے کہاکے پی حکومت نے افغان پالیسی پر تعاون سے بھی انکار کیا،پی ٹی آئی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی جیسے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا،افغانستان سے دراندازی کو بھی موثر انداز میں کنٹرول کیا جائےگا، اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو دہشتگردی کےخلاف اتحاد کی دعوت دیتا ہوں، دہشتگردوں کےساتھ ملک دشمن عناصر کا گٹھ جوڑ کسی صورت قبول نہیں، ہر صورت خاتمہ کیا جائے۔
طارق فضل چودھری نے کہابھارت مسلسل پاکستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، معیشت کو مستحکم کیا، سرمایہ کاری لائے، غیر ملکی عناصر کالعدم بی ایل اے کی پشت پناہی کر رہے ہیں، سب جانتے ہیں خیبر پختونخوا میں وسائل سے زیادہ مسائل ہیں،امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں،بلوچستان حکومت دہشتگردی کےخلاف جنگ میں وفاق ،اداروں کےساتھ کھڑی ہے، قومی مفاد سے زیادہ کوئی چیز مقدم نہیں ، سابق پی ٹی آئی حکومت وفاق کا ساتھ دیتی تو حالات نہ ہوتے،وزیر اعلیٰ کہتے رہے صوبے میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن نہیں ہونے دوں گا،دہشتگردی کے خلاف جنگ جلد جیتیں گے، دنیا پاکستانی امن کوششوں کی معترف ہے۔
سہیل آفریدی مذاکراتی مسودے کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے،طارق فضل چودھری


















