مہنگی جائیدادیں خریدنے والوں کی ٹیکس جانچ، آمدن اور اثاثوں میں تضادات ،ایف بی آر کی کارروائیاں تیز

لاہور (نعیم جاوید) لاہور میں مہنگی جائیدادیں خریدنے والے افراد کی آمدن، ٹیکس گوشواروں اور ظاہر کردہ اثاثوں کی جانچ پڑتال کے دوران ایف بی آر کے سامنے متعدد اہم معاملات آئے ہیں۔ ٹیکس حکام نے ایسے افراد کی نشاندہی کیلئے نگرانی کا عمل تیز کردیا ہے جنہوں نے اپنی ظاہر کردہ آمدن کے مقابلے میں بھاری مالیت کی جائیدادیں خریدیں تاہم ان سرمایہ کاریوں کے ذرائع ٹیکس ریکارڈ میں واضح نہیں تھے۔ ایف بی آر کی تحقیقات میں ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں مبینہ ردوبدل اور غیر واضح ذرائع آمدن کے ذریعے جائیدادوں کی خریداری کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایف بی آر کی یکم اکتوبر 2026ءکی سرکاری معلومات کے مطابق لاہور میں ایک ٹیکس دہندہ کی جانب سے مئی اور جون 2026ءکے دوران سات جائیدادیں خریدنے کا معاملہ سامنے آیا جن کی مجموعی مالیت 6 کروڑ 44 لاکھ 10 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ تحقیقات کے مطابق متعلقہ شخص نے اپنی سابقہ ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں مبینہ طور پر 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے فرضی ذرائع ظاہر کرکے جائیدادوں کی خریداری کیلئے سرمایہ کاری کا جواز بنانے کی کوشش کی۔ حکام کے مطابق مذکورہ معاملے میں 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ ٹیکس چوری کا پہلو بھی سامنے آیا جس پر ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو لاہور نے کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیادوسری جانب ایف بی آر کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل کی کارروائیوں کے دوران ملک بھر میں 38 ایسے کیسوں کی نشاندہی کی گئی جن میں تقریباً 12 ارب 30 کروڑ روپے کے ممکنہ غیر ظاہر شدہ اثاثے سامنے آئے۔ ان میں لاہور کے 10 کیسز بھی شامل تھے۔ ان معاملات میں مہنگی گاڑیوں، جائیدادوں، بیرون ملک سفری اخراجات اور دیگر قیمتی اثاثوں کا جائزہ لیا گیا جبکہ متعدد افراد کو آڈٹ کیلئے منتخب کیا گیا۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2023-24ءمیں بھی جائیدادوں کی خریدوفروخت اور ٹیکس ادائیگیوں کے حوالے سے اہم بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق لاہور اور اسلام آباد کے ٹیکس دفاتر سے متعلق 81 ٹیکس دہندگان کے ریکارڈ کی جانچ کے دوران 79 افراد کی جانب سے جائیدادیں خریدنے کے باوجود ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے یا سرمایہ کاری کے ذرائع واضح نہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا، جبکہ دو دیگر افراد کی جانب سے جائیدادوں کی فروخت کم ظاہر کرنے کی نشاندہی ہوئی۔ آڈٹ رپورٹ میں مجموعی طور پر 93 کروڑ 8 لاکھ روپے کے ممکنہ سرکاری نقصان کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ذرائع کے مطابق جائیدادوں کی خریدوفروخت کے ریکارڈ، رجسٹریوں، بینک لین دین اور ٹیکس گوشواروں کا باہمی موازنہ غیر ظاہر شدہ آمدن کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ایف بی آر کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ مہنگی جائیدادیں خریدنے والے افراد کی ظاہر کردہ آمدن، اثاثوں اور سرمایہ کاری کے ذرائع کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔