LWMC میں مالی بے ضابطگیوں، کرپشن کا بدترین سکینڈل منظرعام پر ، خصوصی آڈٹ کا حکم

لاہور (خبرنگار) لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے امور میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کا بدترین سکینڈل منظرعام پر آیا ہے جہاں وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم نے فلیٹ مینجمنٹ کے ریکارڈ میں سنگین گڑبڑ پکڑتے ہوئے فوری طور پر خصوصی آڈٹ کا حکم دیدیا ہے۔ مستند ذرائع کے مطابق ادارے کے زیر استعمال گاڑیوں کے فیول، مائلیج اور مرمت کی مد میں اربوں روپے کے اخراجات کی جانچ پڑتال کی گئی تو ہوشربا انکشافات سامنے آئے جہاں کروڑوں روپے کے مبینہ گھپلے کی نشاندہی ہوئی ہے اور قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ انسپکشن ٹیم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق فلیٹ مینجمنٹ کے ڈیجیٹل نظام کو دانستہ طور پر نظرانداز کر کے دستی ریکارڈ کا سہارا لیا گیا تاکہ من مانے طریقے سے پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت دکھائی جا سکے۔ حیران کن طور پر ایسی گاڑیاں جو طویل عرصے سے ورکشاپس پر ناکارہ کھڑی تھیں اور روڈ پر نہیں آ رہی تھیں ان کے نام پر بھی فیول اور بھاری بھرکم مرمتی بل وصول کر کے سرکاری فنڈز کو بے دردی سے لوٹا گیا۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کے روٹس اور ان کی اصل مائلیج میں بھی زمین آسمان کا فرق پایا گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ فیول چوری اور فرضی مرمتی بلوں کا ایک منظم سلسلہ جاری تھا۔ اس صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ مجاز حکام نے اس گھناو¿نے کھیل میں ملوث ذمہ دار افسران اور عملے کے خلاف سخت محکمانہ و قانونی کارروائی کا عمل شروع کر دیا ہے جنہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دوسری جانب اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک جامع خصوصی آڈٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جو گزشتہ مالی سالوں کے دوران گاڑیوں کی خریداری، فیول کی کھپت اور پارٹس کی تبدیلی پر اٹھنے والے تمام اخراجات کا ایک ایک کچی چٹھی کی طرح حساب کتاب کرے گا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں سامنے آنے والے متعدد آڈٹ اعتراضات پر فائلوں کی گرد بیٹھ چکی تھی اور متعلقہ حکام کی مبینہ چشم پوشی کے باعث کوئی کارروائی نہیں ہو پائی تھی لیکن اب موجودہ خصوصی آڈٹ کے دائرہ کار میں پرانے تمام اعتراضات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے تاکہ کرپشن کے اس نیٹ ورک میں ملوث چھوٹے بڑے تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جا سکے اور پبلک سیکٹر کے اس اہم ادارے کو مالی کرپشن سے پاک کیا جا سکے۔