لائیو سٹاک سیکٹر کیلئے 10 ارب کے بلاسود قرضے مختص کئے گئے : عاشق کرمانی

لاہور (سپیشل رپورٹر) صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ لائیو سٹاک ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور جی ڈی پی میں اس کا حصہ 14.60 فیصد جبکہ زرعی شعبے میں 62.5 فیصد ہے۔ لائیو سٹاک سیکٹر کی شرح نمو 3.75 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ وہ گزشتہ روز ڈی جی پی آر لاہور میں لائیو سٹاک سے متعلق اقدامات بارے میڈیا کو بریف کر رہے تھے ۔اس موقع پر سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ بھی موجود تھے ۔انہوں نے بتایا کہ 2021-22 کے مقابلے میں لائیو سٹاک کے بجٹ میں 78 فیصد جبکہ ترقیاتی بجٹ میں 170 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ اب پارکنگ ڈیپارٹمنٹ نہیں رہا بلکہ فارمرز کو عملی سہولیات فراہم کرنے والا متحرک ادارہ بن چکا ہے۔ صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک نے مزید کہا کہ لائیو سٹاک سیکٹر کیلئے 10 ارب روپے کے بلاسود قرضے مختص کئے گئے ہیں، جن کی ریکوری کی شرح 55 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ لائیو سٹاک کارڈ کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اب تک 4 لاکھ جانور اس پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ دو برس میں مزید 6 لاکھ جانوروں کو پروگرام میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ فٹ اینڈ ما وتھ ڈیزیز کے تدارک کیلئے 8 کمپارٹمنٹس قائم کئے گئے ہیں، جن میں 7 نئے کمپارٹمنٹس شامل ہیں۔ پروگرام کیلئے 20 فارمرز کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جبکہ 45 ہزار جانوروں کو ٹیگ اور ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ گوشت اور دودھ کی پیداوار بڑھانے کیلئے ہیرڈ ٹرانسفارمیشن پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت 8 لاکھ 40 ہزار جانوروں کو شامل کرنے کا ہدف ہے۔ اعلیٰ نسل کے 5,600 سیمن اسٹراز فروخت کیے گئے ہیں جبکہ فی سیمن اسٹرا 3,900 روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے، جس کے باعث یہ 5,600 روپے کے بجائے صرف 1,700 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے۔ جرلینڈو نسل کے سیمن اور ایمبریوز بھی فراہم کئے جا رہے ہیں۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ ویٹرنری ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ نان پیوریفائیڈ ویکسین تیار کی جا چکی ہیں جبکہ سالانہ 10 کروڑ ویکسین تیار کرنے کا ہدف ہے۔ وی آر آئی نے مجموعی طور پر 26 کروڑ ویکسین ڈوزز تیار کیں، جن کی درآمد پر 17 ارب روپے لاگت آتی، جبکہ مقامی تیاری سے 16 ارب 16 کروڑ روپے کی بچت ہوئی۔ لمپی سکن ڈیزیز ویکسین جو پہلے 300 روپے میں دستیاب تھی، اب پنجاب میں صرف 30 روپے میں تیار کی جا رہی ہے اور ملک بھر کو فراہم کی جا رہی ہے۔ ایم ایف ڈی ویکسین کی مقامی تیاری سے درآمد کی ضرورت بھی ختم ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے، درمیانے اور بڑے فارمرز کیلئے سروس ڈیلیوری کا نظام تبدیل کر دیا گیا ہے اور لائیو سٹاک سروسز اب فارمرز کی دہلیز تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے 47 نئی موبائل ویٹرنری ڈسپنسریوں کا افتتاح کیا ہے جبکہ پہلے سے 206 موبائل ڈسپنسریاں فعال ہیں۔ مستقبل میں ان کی تعداد 400 تک بڑھائی جائے گی۔ موبائل ڈسپنسریوں میں ایکسرے، الٹراسا ونڈ اور خون کے ٹیسٹ کی لیبارٹری سہولت بھی دستیاب ہے، جبکہ ان کی ہفتہ وار بنیادوں پر مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔سید عاشق حسین کرمانی نے بتایا کہ پنجاب کے ہر ضلع میں جدید ویٹرنری آپریشن تھیٹرز اور ایکسرے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ضلعی ہیڈکوارٹرز پر 36 لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔ لائیو سٹاک شعبے میں 6,964 پیرا ویٹس کو موٹر سائیکلیں فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ انٹرن شپ پروگرام کے تحت ایک ہزار انٹرنز تعینات کیے گئے، جن کی مدد سے 34 لاکھ جانوروں کا علاج کیا گیا۔ 9211 سسٹم کے ذریعے ہر ویکسین ڈوز کے بعد فارمرز سے فیڈ بیک لیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں 230 ویٹرنری ہسپتالوں کو ری ویمپ کیا جائیگا۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ 2025 میں 5 کروڑ 38 لاکھ جانوروں کا علاج کیا گیا اور ہر جانور کا ریکارڈ PITB کے 9211 سسٹم پر درج کیا جا رہا ہے۔ 2021-22 کے مقابلے میں زیر علاج جانوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جانوروں کی مصنوعی نسل کشی میں بھی 35.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ موبائل ویٹرنری ڈسپنسریوں کی کوریج 17 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جسے مستقبل میں 81 فیصد تک بڑھانے کا ہدف ہے۔ جانوروں کی ویکسی نیشن کی کوئی فیس وصول نہیں کی جا رہی، جبکہ لائیو سٹاک شعبے میں جدید، بروقت اور مفت ویٹرنری سہولیات کی فراہمی کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔