لاہور (نعیم جاوید) سپر ٹیکس میں کمی اور بعض کاروباری طبقات کو اس سے مکمل استثنیٰ ملنے کے بعد لاہور کی تاجر و صنعتکار برادری نے حکومتی اقدام کو کاروباری لاگت کم کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس بوجھ میں کمی سے کاروباری اداروں کو مالی گنجائش ملے گی، تاہم اس کا حقیقی فائدہ عام صارفین تک پہنچانے کیلئے توانائی، خام مال، پٹرولیم، نقل و حمل اور دیگر پیداواری اخراجات میں بھی کمی لانا ہوگی۔وفاقی بجٹ 2026-27ءکے تحت 50 کروڑ روپے تک قابل ٹیکس آمدن رکھنے والے افراد اور کاروباری اداروں کیلئے سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والوں کیلئے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے، تاہم بعض شعبے اس رعایت سے مستثنیٰ ہیں۔ تاجر رہنماوں کے مطابق اس فیصلے کا سب سے فوری اثر ان کاروباری اداروں کے مالی دباو میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا جو سپر ٹیکس کی وجہ سے اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ ٹیکس کی مد میں ادا کر رہے تھے۔ ٹیکس میں بچت سے کاروباری اداروں کے پاس ورکنگ کیپٹل، کاروبار کی توسیع، نئی مشینری، ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے اضافی وسائل دستیاب ہو سکتے ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری صدرفہےم سہگل نے پہلے ہی سپر ٹیکس کے خاتمے کے امکان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کاروباری لاگت کم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی جانب مثبت قدم قرار دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق سپر ٹیکس کاروباری اداروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالتا ہے جس سے سرمایہ کاری، کاروبار کی توسیع اور روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے ٹیکس بوجھ میں کمی سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بہتر ہونے کی توقع ظاہر کی تھی۔ تاجر رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ سپر ٹیکس میں کمی کو صرف کاروباری طبقے کے منافع میں اضافے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مالی گنجائش کو پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ اگر صنعتیں نئی مشینری خریدتی، پیداوار بڑھاتی، ملازمین کی تعداد میں اضافہ کرتی اور سپلائی چین کے اخراجات کم کرتی ہیں تو اس کے اثرات مجموعی معیشت کے ساتھ عام صارف تک بھی منتقل ہوں گےتا جر برادری کے مطابق سپر ٹیکس میں کمی سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں براہ راست اتنی ہی شرح سے کمی کی توقع کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ کسی بھی شے کی حتمی قیمت میں خام مال، بجلی و گیس، پٹرول، مزدوری، کرایہ، پیکنگ، ٹرانسپورٹ، مالیاتی اخراجات اور ٹیکس سمیت متعدد عوامل شامل ہوتے ہیںتاہم کاروباری لاگت میں کمی کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافے کا دباو¿ کم ہو سکتا ہے۔ خصوصاً بڑی صنعتوں اور سپلائی چین سے منسلک کاروباروں کو ٹیکس ریلیف ملنے سے اگر پیداواری لاگت کم ہوتی ہے تو اس کا کچھ حصہ مارکیٹ میں مسابقت اور کم قیمتوں کی صورت میں صارفین تک منتقل ہونے کی توقع ہے تاجروں کا کہنا ہے کہ عام صارف کو حقیقی ریلیف اسی وقت ملے گا جب حکومت ٹیکس ریلیف کے ساتھ بجلی، گیس، پٹرول، شرح سود اور خام مال کی قیمتوں میں بھی استحکام لانے کیلئے اقدامات کرے۔ صرف سپر ٹیکس میں کمی سے مہنگائی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیںکاروباری حلقوں کے مطابق ٹیکس کے بعد بچنے والی آمدن میں اضافہ سرمایہ کاری کے فیصلوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ جو صنعتکار یا کاروباری ادارے گزشتہ عرصے میں زیادہ ٹیکس اور بلند پیداواری اخراجات کے باعث توسیعی منصوبے مو¿خر کر رہے تھے، انہیں نئی سرمایہ کاری شروع کرنے کیلئے نسبتاً بہتر مالی گنجائش حاصل ہو سکتی ہے تاجر رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ نئی سرمایہ کاری کا مطلب صرف نئی فیکٹریاں لگانا نہیں بلکہ موجودہ صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، نئی ٹیکنالوجی کا استعمال، گوداموں اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی توسیع اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے وزارت خزانہ کی جانب سے بھی ٹیکس اصلاحات کا بنیادی مقصد کاروباری شعبے پر بوجھ کم کرکے اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا قرار دیا گیا ہے تاجر برادری کے مطابق سپر ٹیکس میں کمی سرمایہ کاروں کیلئے ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن سرمایہ کاری کیلئے صرف ٹیکس ریلیف کافی نہیں۔ سرمایہ کار پالیسیوں کے تسلسل، توانائی کی قیمت، شرح سود، روپے کی قدر، درآمدی خام مال کی دستیابی، ٹیکس نظام کی سادگی اور حکومتی اداروں کے رویے کو بھی مدنظر رکھتے ہیںلاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سیگل نے بھی حالیہ اجلاس میں ٹیکس، کاروباری لاگت اور توانائی کے نرخوں کو کاروباری برادری کے بڑے چیلنجز قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلند بجلی کے نرخ اور دیگر کاروباری مشکلات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے لاہور کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سپر ٹیکس میں کمی کے بعد ٹیکس نظام کو مزید سادہ اور مستقل بنایا جائے، نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں شامل کیا جائے اور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری اداروں پر بار بار اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی، پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں استحکام، شرح سود میں مزید کمی اور صنعتی خام مال کی لاگت کم کرنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حالیہ کاروباری اجلاس میں برآمدات پر مبنی ترقی کیلئے کاروباری رہنماو¿ں سے تجاویز طلب کرتے ہوئے کاروباری برادری سے مسلسل مشاورت جاری رکھنے پر زور دیا ہے، جبکہ توانائی کی لاگت کم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیا گیا ہے۔
کاروباری اداروں کو مالی گنجائش ملے گی:سپر ٹیکس میں کمی پر تاجر برادری کا ردعمل

















