پنجاب، مچھلی و دیگر آبی حیات کے تحفظ، غیرقانونی شکار کی روک تھام کیلئے محکمہ سرگرم عمل

لاہور (میاں ذیشان) پنجاب میں مچھلی اور دیگر آبی حیات کے تحفظ، غیر قانونی شکار کی روک تھام اور قدرتی آبی ذخائر میں مچھلی کے ذخیرے کی بحالی کیلئے محکمہ آبی حیات کی جانب سے نگرانی، چھاپہ مار کارروائیوں اور افزائشی منصوبوں کا سلسلہ جاری ہے۔ممنوعہ باریک جال، برقی کرنٹ، زہریلی ادویات اور بغیر اجازت شکار کے خلاف قانونی کارروائی، چالان اور مقدمات درج کرنے کے ساتھ سرکاری پانیوں میں مچھلی کے بیج کی دوبارہ افزائش پر بھی خطیر رقوم خرچ کی جا رہی ہیں۔مالی سال 2025-26ءمیں محکمہ آبی حیات کے مختلف جاری منصوبوں کیلئے 4 ارب 59 کروڑ 63 لاکھ 74 ہزار روپے مختص کئے گئے جبکہ مچھلی کی افزائش، جھینگا فارمنگ اور جدید ہیچریوں کے قیام پر اربوں روپے کے منصوبے زیرعمل ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں جھینگا فارمنگ منصوبے کی مجموعی لاگت 5 ارب 1 کروڑ 3 لاکھ 52 ہزار روپے ہے جس کیلئے رواں مالی سال 377 کروڑ 76 لاکھ 65 ہزار روپے مختص کئے گئے جبکہ آبی زراعت مراکز کے قیام کے لئے رواں مالی سال مجموعی طور پر 4 ارب 59 کروڑ 63 لاکھ 74 ہزار روپے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں مچھلی اور دیگر آبی حیات کے تحفظ، قدرتی آبی ذخائر میں مچھلی کے ذخیرے کی بحالی اور غیر قانونی شکار کی روک تھام کیلئے محکمہ آبی حیات کی جانب سے متعدد انتظامی، قانونی اور ترقیاتی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں دریاﺅں، نہروں، جھیلوں، ذخائر اور دیگر آبی علاقوں پر مشتمل تقریباً 30 لاکھ ہیکٹر آبی وسائل موجود ہیں جبکہ صوبے میں تقریباً 61 ہزار ایکڑ رقبے پر مچھلی فارمنگ جاری ہے اور مجموعی مچھلی پیداوار کا 65 فیصد سے زائد نجی فارمز سے حاصل ہو رہا ہے، محکمہ کی جانب سے قدرتی آبی وسائل کے تحفظ کیلئے مچھلی کے شکار کیلئے لائسنس لازمی قرار دینے، جال کے حجم اور مچھلی کے سائز پر پابندیاں عائد کرنے، یکم جون سے 31 اگست تک افزائش نسل کے موسم میں شکار پر پابندی، برقی کرنٹ کے استعمال کی ممانعت، آبی آلودگی اور صنعتی فضلے سے مچھلیوں کے تحفظ، غیر قانونی جال اور دیگر ممنوعہ طریقوں کے خلاف کارروائی اور سرکاری پانیوں میں مچھلی کے بیج کی دوبارہ افزائش جیسے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پنجاب فشریز آرڈیننس کے تحت مچھلی پکڑنے کیلئے زہر، چونا، نقصان دہ مواد یا دھماکہ خیز اشیا استعمال کرنا ممنوع ہے جبکہ ممنوعہ جال، بغیر لائسنس شکار اور مقررہ سائز سے چھوٹی مچھلی پکڑنے پر قانونی کارروائی، جرمانہ اور سامان ضبط کرنے کی گنجائش موجود ہے، قانون کے تحت محکمہ کے مجاز اہلکاروں کو بعض خلاف ورزیوں میں بغیر وارنٹ گرفتاری اور جال، پھندے، کشتی یا دیگر سامان قبضے میں لینے کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔ حالیہ برسوں میں فیلڈ عملے کی جانب سے دریاﺅں اور مچھلی منڈیوں کی نگرانی بڑھانے کے ساتھ غیر قانونی اور نقصان دہ طریقوں سے شکار کرنے والوں کے خلاف چالان اور ایف آئی آر درج کئے جانے کی بھی تصدیق سامنے آئی ہے، جبکہ ستمبر 2025 کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ جنوبی پنجاب میں محکمہ نے غیر مجاز اور نقصان دہ شکار کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چالان اور مقدمات درج کئے تھے۔ اسی طرح جنوری 2025 میں سیالکوٹ کے محکمہ آبی حیات نے بتایا کہ غیر قانونی شکار کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں اور برقی کرنٹ و زہریلی ادویات کے استعمال کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران پورے پنجاب میں درج مقدمات، چالانوں اور وصول کئے گئے جرمانوں کی صورت میں کروڑوں روپے حکومتی خزانے میں جمع کروائے گئے ہیں۔ محکمہ نے غیر قانونی شکار، مچھلی چوری اور آبی وسائل کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کی اطلاع کیلئے 1374 فشریز تحفظ ہیلپ لائن بھی قائم کر رکھی ہے۔ دوسری جانب مچھلی کے بیج اور آبی حیات کی افزائش کیلئے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے ترقیاتی پروگرام کے مالی سال 2025-26 میں جھینگا فارمنگ منصوبے کی مجموعی لاگت 5 ارب 1 کروڑ 3 لاکھ 52 ہزار روپے ہے جس کیلئے رواں مالی سال 377 کروڑ 76 لاکھ 65 ہزار روپے مختص کئے گئے، پینگاسیئس اور دیگر اعلیٰ قدر کی مچھلیوں کی ہیچریوں کے قیام کے منصوبے کی لاگت 39 کروڑ 79 لاکھ 88 ہزار روپے ہے جبکہ رواں سال 15 کروڑ 41 لاکھ 34 ہزار روپے رکھے گئے، اسی طرح پنجاب میں آبی زراعت مراکز کے قیام کیلئے 73 کروڑ 92 لاکھ 19 ہزار روپے کے منصوبے میں مالی سال 2025-26 کے دوران 63 کروڑ 34 لاکھ 66 ہزار روپے مختص ہیں، ان جاری منصوبوں کیلئے رواں مالی سال مجموعی طور پر 4 ارب 59 کروڑ 63 لاکھ 74 ہزار روپے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سابقہ ترقیاتی ریکارڈ میں مچھلی کے حیاتیاتی تنوع کی ہیچری، مچھلی کے بیج کی پیداوار بڑھانے، جینیاتی بہتری اور ہیچریوں کی بحالی جیسے منصوبے بھی شامل رہے ہیں، جبکہ محکمہ سرکاری ہیچریوں سے معیاری مچھلی کا بیج فراہم کرنے، قدرتی پانیوں میں بیج ڈالنے، بیماریوں کی تشخیص، پانی و مٹی کے تجزیے اور مچھلی فارمرز کو فنی تربیت دینے کے ذریعے آبی حیات کے تحفظ اور مچھلی کی پیداوار بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔