اسلام آباد:(بیورورپورٹ)صوبے اپنی فوج اور پولیس نہیں بناسکتے، وفاق نے خیبرپختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا ایکٹ ابھی کابینہ سے منظور ہوا ، بہتر ہے صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے، وفاق کے پاس ترمیم شدہ پولیس ایکٹ پر بہت آپشنز ہیں، سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا،کے پی حکومت نے صرف آئی جی کے اختیارات واپس نہیں لیے ،پوری کمانڈ تباہ کردی، مجوزہ پولیس ایکٹ میں سیاسی عمل دخل واضح نظر ،وزیراعلیٰ کااقدام اختیار اپنی جیب اور سیاسی جماعت کے تابع کرنے کی کوشش ہے،قانون کے ملک پر کیا اثرات ہوں گے؟ صوبے مادر پدر آزاد نہیں ، سندھ اپنی نیوی، پنجاب اپنی ریلوے بنانا چاہے تو نہیں بنا سکتا، صوبے پی ایس پی رولز کو تبدیل نہیں کرسکتے، رولز سیٹلڈ قوانین ہیں۔
وزیر مملکت داخلہ نے کہابانی پی ٹی آئی اداروں کو سیاست سے پاک کرنے کی بات کرتے تھے، ڈسپلنڈ فورس کا بیڑہ غرق کرکے آپ چاہتے ہیں فورس کا مورال تباہ کیا جائے، آپ اپنے گھروں کے لوگوں کو ڈی ایس پی بھرتی کرنا چاہتے ہیں، کے پی پولیس کی تنخواہیں ،شہدا پیکیج دیگر صوبوں کی پولیس سے کم تھا، 20سال سے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑنے والے صوبے میںسی ٹی ڈی کے دفاتر کرائے کی عمارتوں میں ہیں،800ارب این ایف سی سے دہشتگردی کیخلاف جنگ کی مد میںملے، بتائیں پیسہ کہاں لگا ، ایک ایک دہشتگرد کے پاس 10سے15ہزار ڈالر کا سامان ہوتا، کے پی پولیس کا سپاہی بغیر بلٹ پروف جیکٹ ڈیوٹی دیتا ہے۔
طلال چودھری نے کہاامن کمیٹیوں کیلئے آپ نے کسی سول سوسائٹی یااپوزیشن لوگوں کو شامل نہیں کیا،کوہاٹ سانحہ میں شہید ہونیوالوں کے جنازوں میں کوئی صوبائی وزیر نہیں تھا، آپ تو شہدا کےساتھ بھی کھڑے نہیں ہوتے،وفاق ہر چیز کو آئین و قانون کی نظر سے دیکھتا ہے، آپ پولیس کو گھر کی لونڈی نہیں بناسکتے،وفاقی قوانین ہی صوبائی قوانین کے اوپر ہوں گے ایسی صورتحال بنی تو پارلیمنٹ جائیں گے اور قانون سازی کریں گے، پولیس کو ”گھر کی لونڈی“ ملازم یا ”جیب کی چھڑی“ بنانے کی کوشش نہیں چل سکتی،اسلام آباد کے تمام ر استے کھلے ہیں،کوئی سڑک بند نہیں کی گئی۔
وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا خیبرپختونخوا حکومت کا مجوزہ پولیس ایکٹ سیاسی بنایا گیا ، پی ایس پی افسروں کی تعیناتی صرف وفاق کرسکتا ، نیا رواج سیٹ کرنے کی کوشش غیر آئینی ،غیر قانونی ہے،پولیس فورس کو تابع لانے کےلئے ایکٹ لایا گیا،خیبرپختونخوا کابینہ کے پاس ایسا قانون پاس کرنے کا اختیار نہیں،خیبرپختونخوا میں 13 سال سے سرکس لگی ،صوبے میں دہشت گردی بڑھ رہی اور یہ احتجاج کررہے ہیں۔
اختیار ولی خان نے کہا پی ٹی آئی والوں کی انتشاری سیاست آئے دن پروان چڑھ رہی ،پولیس کو اپنا عسکری ونگ بنانے جارہے ہیں،خیبرپختونخوا صوبہ انتظامی حوالے سے لاوارث ،پولیس کو ٹائیگر فورس میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں،چلو، چلو اسلام آباد چلو، چلو، چلو لاہور چلومیں سارا مال کھا گئے،پی ٹی آئی والے شہدا کے جنازوں میں شامل نہیں ہوتے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا پولیس کو انتشار ،فساد کےلئے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں،قانون وفاقی حکومت کےساتھ متصادم ہے،آخری حد تک صبر کریں گے، جب تک صوبے کے لوگ ،سیاسی جماعتیں نہیں بولیں گی تب تک گورنر راج نہیں لگے گا۔
صوبے اپنی فوج، پولیس نہیں بناسکتے،کے پی ایکٹ سیاسی،سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے،وفاقی حکومت


















