لاہور (سروے رپورٹ: میاں ساجد/ تصاویر: میاں شاہنواز) وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے کم آمدن اور مستحق طبقات کو پٹرولیم مصنوعات پر ریلیف فراہم کرنے کے اعلان نے جہاں حکومتی سطح پر عوامی سہولت کے عزم کو اجاگر کیا ہے، وہیں لاہور کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے ریلیف کے طریقہ کار، اہلیت، رجسٹریشن اور عملی رسائی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور محدود آمدن کے باعث عام آدمی پہلے ہی شدید مالی دباو کا شکار ہے، اس لیے ایسا ریلیف درکار ہے جو براہ راست مستحق گھرانوں تک پہنچے اور جس کے حصول کیلئے پیچیدہ آن لائن رجسٹریشن یا متعدد شرائط کا سامنا نہ کرنا پڑے۔روزنامہ مشرق کے سروے کے دوران شہریوں نے کہا کہ حکومت اگر حقیقی معنوں میں غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ امداد ان افراد تک پہنچے جو حقیقتاً اس کے مستحق ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ آن لائن رجسٹریشن کہاں ہوگی، کون اہل ہوگا، کس طریقے سے تصدیق ہوگی، ریلیف کب ملے گا اور ایسے افراد کیلئے کیا طریقہ کار ہوگا جو انٹرنیٹ یا آن لائن نظام تک رسائی نہیں رکھتے۔ شہریوں کے مطابق ملک میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو روزانہ اجرت، چھوٹے کاروبار، رکشہ ڈرائیونگ، مزدوری اور محدود تنخواہوں پر اپنے خاندانوں کا نظام چلا رہے ہیں۔ ان طبقات کیلئے پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ریلیف کا اصل فائدہ اسی وقت ہوگا جب درخواست اور تصدیق کا نظام آسان، شفاف اور عام شہری کی دسترس میں ہو۔چنگ چی اور موٹر سائیکل سواروں کیلئے براہ راست ریلیف کا مطالبہ کے حوالے سے سروے میں شہریوں نے موقف اختیار کیا کہ اگر حکومت کا مقصد کم آمدن والے افراد کو سفری اخراجات میں ریلیف دینا ہے تو چنگ چی رکشہ ڈرائیوروں، موٹر سائیکل سوار مزدوروں، ڈیلی ویجز کارکنوں اور کم آمدن والے افراد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کیلئے محدود مقدار میں پٹرول ریلیف بھی روزمرہ اخراجات میں نمایاں سہولت فراہم کرسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار غلام مصطفی ، برہان الدین ، نقیب اللہ خان ، محمد سبحان ، عبداللہ ، اوراللہ دتہ جدو ن نے روزنامہ مشرق سروے میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشاہدہ کیا جائے تو نسبتاً بڑی گاڑیوں کے مالکان کو پٹرول ریلیف دینے کے بجائے حکومتی امداد کا زیادہ حصہ انتہائی کم آمدن والے خاندانوں، مزدوروں اور روزانہ سفر کرنے والے کارکنوں کیلئے مختص کیا جائے تاکہ سرکاری وسائل کا حقیقی مستحقین تک پہنچنا یقینی بنایا جاسکے۔سروے میں شہریوں کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے مسائل صرف پٹرول تک محدود نہیں۔ بجلی، گیس، آٹا، چینی، دالیں، سبزیاں، بچوں کی تعلیم، علاج اور کرایوں میں اضافے نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ کئی شہریوں نے کہا کہ کم آمدن والے گھرانوں کیلئے چند ہزار روپے کا ماہانہ ریلیف بھی اہم ہے، اس لیے حکومت کو پٹرول کے ساتھ ساتھ بجلی کے بلوں اور بنیادی ضروریات زندگی کے حوالے سے بھی مستقل اور براہ راست ریلیف پالیسی وضع کرنی چاہیے۔شہریوں کے ایک طبقے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر ممکن ہو تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں براہ راست کم کی جائیں تاکہ ملک بھر کے تمام شہری بلاامتیاز فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص طبقے کیلئے سبسڈی کے مقابلے میں قیمتوں میں عمومی کمی کا فائدہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔سروے کے دوران ایک اہم اعتراض یہ سامنے آیا کہ اگر پٹرول ریلیف کے حصول کیلئے آن لائن رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی تو دیہی علاقوں، کم تعلیم یافتہ افراد، بزرگ شہریوں اور ایسے مزدور طبقے کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے جو اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ آن لائن نظام کے ساتھ ساتھ یونین کونسل، احساس مراکز، سہولت مراکز یا دیگر سرکاری دفاتر کے ذریعے آف لائن رجسٹریشن کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔غلام مصطفی ، برہان الدین ، نقیب اللہ خان ، محمد سبحان ، عبداللہ ، اوراللہ دتہ جدو ن نے مزید کہا کہ شہری ریلیف کے اصول کے مخالف نہیں بلکہ ریلیف کے طریقہ کار کو آسان، براہ راست اور شفاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات کم کرنا چاہتی ہے تو مستحق خاندانوں کی درست نشاندہی، آسان رجسٹریشن، شفاف تصدیق اور بروقت ادائیگی بنیادی شرائط ہونی چاہئیں۔غلام مصطفی ، برہان الدین ، نقیب اللہ خان ، محمد سبحان ، عبداللہ ، اوراللہ دتہ جدو ن نے مزید کہا کہ عوام کو ایسے ریلیف کی ضرورت ہے جو ان کے گھریلو بجٹ کو براہ راست سہارا دے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت غریب خاندانوں کیلئے خصوصی ماہانہ وظائف، بجلی کے بلوں میں ریلیف اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دے، کیونکہ محض پٹرول ریلیف سے مہنگائی اور کم آمدن کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔شہریوں نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پٹرول ریلیف اسکیم کے طریقہ کار، اہلیت کے معیار، رجسٹریشن کے مراحل، مستحق افراد کی تعداد اور ریلیف کی رقم کے حوالے سے واضح اور عام فہم معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ کسی مستحق شہری کو لاعلمی یا پیچیدہ طریقہ کار کے باعث حکومتی سہولت سے محروم نہ ہونا پڑے۔ شہریوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریلیف کا اعلان صرف اعلان نہ رہے بلکہ اس کا فائدہ واقعی اس گھر تک پہنچے جہاں مہینے کے اختتام پر بجلی کا بل، راشن اور بچوں کے اخراجات پورے کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
پٹرول ریلیف یا مشکل طریقہ کار، عوام نے حکومتی پیکیج پر سوالات اٹھا دئیے

















