کچن گارڈننگ منصوبہ، سالانہ 2 لاکھ 70 ہزار بیج پیکٹ فروخت

لاہور (نعیم جاوید) پنجاب میں شہریوں کو گھروں میں سبزیاں اگانے کی ترغیب دینے کیلئے کچن گارڈننگ کا منصوبہ جاری ہے، محکمہ زراعت کے مطابق صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں سالانہ تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار سبزیوں کے بیج پیکٹ براہ راست اور محکمہ زراعت توسیع کے ذریعے فروخت کئے جاتے ہیں تاہم موجودہ مالی سال میں کتنے شہریوں یا گھرانوں نے بیج کٹس حاصل کیں، ان میں سے کتنے گھرانے عملی طور پر کچن گارڈننگ کر رہے ہیں اور منصوبے پر حکومت کی جانب سے اب تک کتنی رقم خرچ کی گئی، اس حوالے سے تازہ جامع اعداد و شمار محکمہ زراعت کی ویب سائٹ پر دستیاب نہیں ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کچن گارڈننگ کے فروغ کیلئے سبزیوں کی بیج کٹ تیار کی جاتی ہے جس میں اہم سبزیوں کے بیج شامل ہوتے ہیں اور یہ کٹ تقریباً 5 سے 8 مرلہ رقبے پر کاشت کیلئے کافی ہوتی ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق موسم گرما اور موسم سرما دونوں کیلئے بیج کٹس دستیاب ہیں جبکہ ایک کٹ کی موجودہ درج شدہ قیمت 70 روپے ہے اور یہ کٹس سبزی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد اور ضلعی محکمہ زراعت کے دفاتر سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ محکمہ زراعت کے مطابق کچن گارڈننگ کے ساتھ شہریوں کو سبزیوں کی کاشت کی پیداواری ٹیکنالوجی اور رہنمائی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ لاہور میں ڈیوس روڈ گرین بیلٹ دفتر کے ذریعے بھی شہریوں کو کچن گارڈننگ کی تربیت دینے اور تصدیق شدہ سبزیوں کا بیج فراہم کرنے کی سہولت موجود ہے، جبکہ سکولوں، کالجوں اور جامعات میں بھی کچن گارڈننگ کے حوالے سے تربیتی سرگرمیاں کی جاتی ہیں۔ سرکاری ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ کچن گارڈننگ کو فروغ دینے کا سلسلہ نیا نہیں بلکہ کئی برس سے جاری ہے۔ محکمہ زراعت کی ایک سابقہ کارکردگی رپورٹ میں لاہور اور راولپنڈی میں کچن گارڈننگ کی تربیت حاصل کرنے والے 10 ہزار 176 افراد کا ذکر موجود ہے، تاہم یہ اعداد تاریخی نوعیت کے ہیں اور انہیں موجودہ صورتحال کا عکاس قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح ایک سرکاری زرعی رپورٹ میں کچن گارڈننگ کیلئے مختلف علاقوں میں بیج کٹس کی فراہمی کے منصوبوں کا بھی ذکر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض مقامات پر سرکاری سطح پر بیج کٹس کی فراہمی کیلئے باقاعدہ اہداف اور اخراجات مقرر کئے جاتے رہے ہیں۔ تاہم صوبہ بھر کا موجودہ مجموعی بجٹ اور حقیقی اخراجات کا تازہ ڈیٹا الگ سے حاصل کرنا ضروری ہے زرعی ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں کچن گارڈننگ کے فروغ میں سب سے بڑا مسئلہ محدود جگہ، پانی کی دستیابی، معیاری بیج، مٹی کی تیاری، کیڑوں اور بیماریوں سے تحفظ اور شہریوں کی مسلسل دلچسپی برقرار رکھنا ہے۔ صرف بیج فراہم کرنے سے منصوبے کا مکمل فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ بیج حاصل کرنے والے گھرانوں کی بعد ازاں نگرانی، تربیت اور تکنیکی رہنمائی بھی ضروری ہے۔ محکمہ زراعت کے مطابق سبزی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کچن گارڈننگ کیلئے بیج کٹس کے ساتھ سبزیوں کی پیداواری ٹیکنالوجی بھی فراہم کرتا ہے اور شہری و دیہی علاقوں میں سالانہ تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار بیج پیکٹ فروخت کیے جاتے ہیں۔ ادارے کے مطابق کچن گارڈننگ کے فروغ کا مقصد شہریوں کو گھروں میں تازہ سبزیاں اگانے کی طرف راغب کرنا ہے اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع پنجاب عبدالحمید سے موجودہ صورتحال، بیج کٹس کی تقسیم، منصوبے کے بجٹ، شہریوں کی دلچسپی، تربیتی پروگراموں اور عملی طور پر کچن گارڈننگ کرنے والے گھرانوں کی تعداد کے بارے میں تازہ اعداد و شمار طلب کیے گئے ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کی سرکاری ویب سائٹ پر عبدالحمید کو ڈائریکٹر جنرل ایکسٹنشن کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ محکمہ زراعت سے یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ موجودہ موسم میں بیج کٹس کی طلب کتنی ہے، کیا شہریوں کو مطلوبہ مقدار میں معیاری بیج دستیاب ہو رہے ہیں، کتنے افراد کو کچن گارڈننگ کی باقاعدہ تربیت دی گئی،تربیت حاصل کرنے والوں میں سے کتنے افراد نے اپنے گھروں میں سبزیاں کاشت کیں اور منصوبے کی کامیابی جانچنے کیلئے محکمہ کی جانب سے کوئی فالو اَپ یا نگرانی کا نظام موجود ہے یا نہیں۔ محکمہ زراعت کے تازہ اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد اس منصوبے کی حقیقی کارکردگی کا اندازہ اس بنیاد پر لگایا جا سکے گا کہ کتنے بیج پیکٹ تقسیم ہوئے کے بجائے کتنے گھرانے مستقل بنیادوں پر کچن گارڈننگ کر رہے ہیں اور اس سرگرمی سے شہری خاندانوں کو عملی طور پر کتنی سبزیاں گھریلو سطح پر حاصل ہو رہی ہیں۔